چیف الیکشن کمشنر کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا، حراست کے بعد راہل گاندھی کا دوٹوک اعلان

نئی دہلی کے حساس ترین علاقے ونڈسر پلیس پر بدھ کی شام اس وقت شدید سیاسی بحران اور افراتفری دیکھنے میں آئی جب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ اور دہلی پولیس کے درمیان زبردست تصادم ہوا۔ پولیس نے جنتر منتر کی طرف پیش قدمی کرنے والے کانگریس رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی وڈرا کو مسلسل دوسرے روز حراست میں لے کر بارہ کھمبا روڈ پولیس اسٹیشن پہنچایا، جہاں بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ پولیس کے ہاتھوں تحویل میں لیے جانے کے دوران راہل گاندھی نے واضح اعلان کیا کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے، ان کی جمہوری تحریک کسی صورت ختم نہیں ہوگی۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے جن پتھ پر واقع ایک ریستوراں میں انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا، جس کے فوراً بعد درجنوں اپوزیشن رہنما بسوں کے ذریعے جنتر منتر کی جانب روانہ ہوئے۔ جیسے ہی یہ قافلہ الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے قریب ونڈسر پلیس پہنچا، پولیس نے بھاری بیریکیڈنگ کے ذریعے راستے بند کر دیے۔ مظاہرین اور کارکنان کے بسوں سے اترتے ہی پولیس کے ساتھ دھکم پیل شروع ہو گئی۔ پرینکا گاندھی وڈرا سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئیں جنہیں بعد ازاں سیکیورٹی اہلکاروں نے زبردستی گاڑیوں میں بٹھایا۔ اس پورے عمل نے وسطی دہلی کی مصروف شاہراہوں کو سیاسی نعرے بازی اور غیر معمولی ہنگامہ آرائی کے مرکز میں تبدیل کر دیا۔

اس احتجاج کا محرک ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق سامنے آنے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ ہے، جس کے بعد سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے ردعمل دیتے ہوئے نو مختلف فیصلوں کا اعلان کیا تھا، لیکن اپوزیشن کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات نا کافی ہیں اور جب تک موجودہ چیف الیکشن کمشنر مستعفی نہیں ہوتے، آئندہ انتخابات میں شفافیت ممکن نہیں۔ منگل کے روز بھی اسی معاملے پر پارلیمنٹ سے نکالی گئی ریلی آکاش وانی بھون کے قریب روک دی گئی تھی، جہاں اراکین پارلیمنٹ نے کئی گھنٹوں تک دھرنا دیا تھا۔

انڈیا اتحاد کی حکمت عملی میں اتحاد کے ساتھ ساتھ اندرونی تنظیمی سوالات بھی ابھر رہے ہیں۔ بدھ کو ہونے والے مشاورتی ظہرانے میں ترنمول کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی، لیکن اتر پردیش کے آئندہ انتخابات کے پس منظر میں سماجوادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو کی عدم موجودگی سیاسی مبصرین کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ اس سے قبل منگل کو سرکاری عمارت میں اچانک دھرنے پر بھی حلیف جماعتوں کی جانب سے باہمی رابطے کے فقدان پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس پر کانگریس قیادت نے اعتماد بحال کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

انتخابی فہرستوں کی درستگی اور جمہوری اداروں کی غیر جانبداری کے اس سوال نے ملکی سیاست میں گہرے ارتعاشات پیدا کر دیے ہیں۔ عوامی رائے دہندگان اور سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی طریقہ کار پر اعتماد برقرار رکھنا ایک بنیادی تقاضا ہے، جس کے پیش نظر یہ تنازع محض ایک قانونی بحث نہیں بلکہ جمہوریت کے تسلسل کا سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اپوزیشن کی جانب سے ملک گیر سطح پر اس دباؤ کو مزید تیز کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں نے دارالحکومت میں سیکیورٹی اور امتناعی احکامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔

شیئر کریں۔