پاکستان میں فوجی جوانوں کو لے جانے والی ٹرین پر خودکش کار بم حملہ، 24 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کے روز فوجی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو لے جانے والی ایک مسافر ٹرین پر خودکش کار بم حملے میں کم از کم چوبیس افراد جاں بحق اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ چمن پھاٹک کے قریب اس وقت پیش آیا جب پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس وہاں موجود سگنل سے گزر رہی تھی۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق بارود سے بھری ایک گاڑی ٹرین کی بوگیوں سے ٹکرا دی گئی جس کے نتیجے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ ٹرین کا انجن اور متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹرین میں سوار بیشتر افراد فوجی جوان اور ان کے اہل خانہ تھے جو عید کی چھٹیوں کے لیے اپنے آبائی علاقوں کی جانب سفر کر رہے تھے۔ کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے اس پرتشدد کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

بلوچستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور غیر ملکی ورکرز پر حملوں کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مسلح کارروائیاں دیکھی گئی تھیں۔ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے ان حملوں کا بنیادی ہدف ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور خطے میں جاری ترقیاتی منصوبوں بالخصوص چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے کام کو متاثر کرنا رہا ہے۔

اس ہولناک واقعے کے بعد کوئٹہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو فوری طلب کر لیا گیا ہے۔ دھماکے سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے بلکہ قریبی مکانات اور سڑک کنارے کھڑی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور مقامی آبادی میں شدید عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے۔

ریسکیو ٹیموں اور سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ریلوے حکام نے مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے جعفر ایکسپریس کی روانگی کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر احتیاطاً معطل کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہسپتال لائے گئے متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

شیئر کریں۔