بھارتی ریاست اڈیشہ کے ضلع کالاہانڈی کے قصبے بھوانی پٹنہ سے پولیس نے ممتاز سماجی معالج ڈاکٹر رینڈل سیکویرا اور دلت حقوق کے فعال کارکن لکشمن نائک کو رات کے وقت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ یہ کارروائی رواں برس اپریل میں ودانتا لمیٹڈ کی مجوزہ سیجی مالی باکسائٹ کان سے جڑے سڑک کے ایک منصوبے کے خلاف مقامی دیہاتیوں اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں، شہری تنظیموں اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس گرفتاری کو کارپوریٹ منصوبوں کے خلاف آواز اٹھانے والی دلت اور آدیواسی آبادیوں کی جدوجہد کو دبانے کی ریاستی کوشش قرار دے کر شدید مذمت کی ہے۔
پولیس نے دونوں کارکنان پر اقدام قتل، فساد برپا کرنے اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے ہیں، جبکہ ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپریل کے دوران قبائلی باشندوں کو سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے لیے اکسایا تھا۔ اس کے برعکس شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی صحت کے پلیٹ فارم ’جن سوستھ ابھیان‘ نے واضح کیا کہ واقعے کے وقت درج کی گئی ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ میں ان دونوں کا نام تک شامل نہیں تھا اور اب اچانک چھ ماہ بعد من گھڑت الزامات لگا کر انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق پولیس نے بغیر وارنٹ ان کے گھروں پر چھاپہ مارا اور ضابطہ فوجداری کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے۔
یہ سارا تنازع سیجی مالی کی ماحولیاتی اعتبار سے حساس پہاڑیوں پر ودانتا کے زیر انتظام مجوزہ باکسائٹ کان کنی اور اس کے لیے تین کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر سے جڑا ہوا ہے۔ مقامی قبائلی اور پسماندہ طبقات کا مؤقف ہے کہ اس بڑے صنعتی منصوبے سے ان کے زرعی وسائل، جنگلاتی اراضی، پینے کے صاف پانی اور معاش کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسی سال اپریل کی رات جب پولیس ایک مبینہ نان بیلیبل وارنٹ کی تعمیل کے لیے کنٹامل گاؤں پہنچی تھی تو کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے پرامن دیہاتیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ پولیس کا دعویٰ تھا کہ اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا جس میں عملہ زخمی ہوا۔
سیاسی محاذ پر کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کے جائز مطالبات کی حمایت کرنے کی پاداش میں ان کارکنوں کو قید کیا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اڈیشہ حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی مشینری کارپوریٹ کمپنیوں کے مفاد میں قانون کے تمام ضابطوں کو پامال کر رہی ہے۔ ادھر سی پی آئی (ایم) کی ریاستی کمیٹی نے اس واقعے کو ریاستی جبر کی باقاعدہ مہم سے تعبیر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس خطے میں کان کنی کی مخالفت کرنے والے اب تک ایک سو سے زائد افراد کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا چکا ہے۔




