معروف فلمی اداکار نصیرالدین شاہ نے ایک بار پھر ملک کی سیاسی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر کھل کر بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نصیرالدین شاہ نے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی بنگال انتخابات کے بعد اب ان تمام افراد اور طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو حکمران جماعت کے نظریات اور پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں اختلافی آوازوں کو دبانے اور نظریاتی طور پر مخالف سوچ رکھنے والوں کے خلاف کارروائیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔
اداکار نے خاص طور پر کولکتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) میں زیر تعلیم طلبا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے جائز حقوق اور انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے مستقبل کے فلم سازوں کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ طلبا کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں، ان کی نگرانی کی جا رہی ہے، دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور حتیٰ کہ ہاسٹل خالی کرنے کے احکامات بھی صادر کر دیے گئے ہیں۔ نصیرالدین شاہ کے مطابق یہ اقدامات محض پروپیگنڈا پھیلانے تک محدود نہیں بلکہ عوام کو خوفزدہ کر کے خاموش کرانے کی دانستہ کوشش ہیں۔
نصیرالدین شاہ ملک کے سماجی اور جمہوری مسائل پر طویل عرصے سے کھل کر اپنا موقف پیش کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ طلبہ تحریکوں کی بھرپور تائید کر چکے ہیں۔ جولائی میں جب نوجوان مظاہرین نے پارلیمنٹ مارچ کی کال دی تھی، اس وقت بھی انہوں نے طلبا کے خلاف کی گئی ریاستی سختیوں کی کھلے عام مذمت کی تھی اور پرامن احتجاج کے جمہوری حق کا دفاع کیا تھا۔




