مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول سے ایک انتہائی دل دہلا دینے والا اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 24 سالہ مسلم نوجوان علی خان کو ٹرین کے اندر سیٹ کے معمولی تنازع کے بعد آدھی رات کو ریلوے اسٹیشن پر مبینہ طور پر گھسیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ لرزہ خیز واقعہ بیتول ضلع کے بوردیہی ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا، جس نے پوری ریاست اور ملک بھر کے مسافروں میں خوف و ہراس اور شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقتول نوجوان کی شناخت علی خان کے طور پر ہوئی ہے، جو چھندواڑہ کا رہائشی تھا اور ناگپور میں برسرِ روزگار تھا۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق علی خان اپنے دوستوں جینت ورما، شیوم مالویہ اور یش کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے ٹرین سے سفر کر رہا تھا کہ اسی دوران یہ المیہ پیش آیا۔ مقتول کے دوستوں اور اہل خانہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سفر کے دوران ایک نامعلوم شخص نے علی خان کی ریزرو سیٹ پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ جب علی نے اس کی مخالفت کی تو اس شخص نے خود کو ایک دائیں بازو (رائٹ ونگ) کی تنظیم کا لیڈر بتاتے ہوئے نوجوان کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں اور ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ اگرچہ اس وقت علی خان کے دوستوں نے بیچ بچاؤ کرا کے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی، لیکن ٹرین کے اندر ماحول کشیدہ ہی رہا۔
یہ تنازع اس وقت ایک بھیانک اور خونی رنگ اختیار کر گیا جب آدھی رات کے وقت ٹرین بوردیہی ریلوے اسٹیشن پر آ کر رکی۔ عینی شاہدین اور مقتول کے دوستوں کا دعویٰ ہے کہ اسٹیشن پر ٹرین رکتے ہی مردوں کا ایک گروپ کوچ کے اندر داخل ہوا جو مبینہ طور پر مخصوص مذہبی نعرے لگا رہا تھا۔ ان لوگوں نے علی خان کو نشانہ بناتے ہوئے اسے زبردستی ٹرین سے باہر کھینچا اور ریلوے پلیٹ فارم پر لے جا کر لاٹھیوں اور گھونسوں سے بے رحمی کے ساتھ پیٹنا شروع کر دیا۔ ہجوم کی اس وحشیانہ ماب لنچنگ میں علی خان شدید زخمی ہو گیا اور اس نے پلیٹ فارم پر ہی دم توڑ دیا۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر علی خان کے دوستوں نے اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے کوچ میں پناہ لی اور بعد میں ریلوے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔
مقتول علی خان کے اہل خانہ اور دوستوں نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک باقاعدہ ٹارگٹڈ حملہ تھا، جسے سیٹ کے تنازع کے بعد جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ محض سیٹ کے جھگڑے پر کسی کی جان لے لینا ظاہر کرتا ہے کہ مسافروں بالخصوص اقلیتی برادری کے نوجوانوں کو کس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاندان نے ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) پرمود پاٹل نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس انتظامیہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور ریلوے اسٹیشن سمیت ٹرین کے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیے جا رہے ہیں۔ پولیس عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کر رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کر کے انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اس وحشیانہ قتل نے ایک بار پھر رات کے وقت ٹرینوں میں مسافروں کے تحفظ اور ریلوے سیکیورٹی کے انتظامات پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔




