جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے سابق آئی اے ایس افسر نیاز خان کی جانب سے مسلمانوں کو دیئے گئے اس مشورے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے ہجومی تشدد (مب لنچنگ) سے محفوظ رہنے کے لیے مسلمانوں کو اپنی ظاہری وضع قطع بدلنے اور روایتی لباس ترک کرنے کی بات کہی تھی۔ مولانا مدنی نے نئی دہلی میں جاری ایک تفصیلی بیان میں اس مشورے کو حقائق سے چشم پوشی اور مسئلے کی غلط تشخیص قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی سابق بیوروکریٹ یا ذمہ دار شخص کی طرف سے ایسا بیان آنا نہایت افسوس ناک اور تشویش ناک ہے، کیونکہ اصل مسئلہ مظلوم کی داڑھی، سر کی ٹوپی، کرتے پاجامے یا خواتین کے حجاب میں نہیں، بلکہ حملہ آور کے ذہن میں موجود نفرت اور اس ماحول میں ہے جہاں ہجوم خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔
مولانا مدنی نے اپنی بات کے حق میں تحقیق پر مبنی دستاویزی شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ملک میں پیش آنے والے ہجومی تشدد کے 38 نمایاں واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سائنسی تحقیق میں یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ ان میں سے 83 فیصد واقعات ایسے تھے جن میں متاثرہ افراد نے بالکل عام لباس پہن رکھا تھا اور ان کی ظاہری وضع قطع سے کوئی روایتی اسلامی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔ ان تمام شہریوں کو محض افواہوں، نام اور شک کی بنیاد پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے تاریخی مثالیں دیتے ہوئے محمد اخلاق (2015)، رکبر خان اور قاسم قریشی (2018)، تبریز انصاری (2019)، ناصر اور جنید (2023) سمیت ہریانہ کے چرخی دادری میں صابر ملک (2024) کے قتل کے لرزہ خیز واقعات کا حوالہ دیا، جہاں متاثرین کا لباس یا حلیہ حملے کی وجہ نہیں تھا۔
بین الاقوامی تناظر کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ نے بوسنیا کی تاریخ کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں کے مسلمان زبان، لباس، وضع قطع اور طرز زندگی میں اپنے عیسائی پڑوسیوں جیسے ہی تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں بدترین نسل کشی، حراستی کیمپوں اور مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی مخصوص طبقے کے خلاف مسلسل نفرت کا ماحول تیار کیا جائے اور اسے مشتبہ بنا دیا جائے، تو صرف شناخت بدل لینا کبھی تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ایک ہجوم کو کسی بھی شہری کا نام پوچھنے، اس کی گاڑی کا تعاقب کرنے اور اسے قانون ہاتھ میں لے کر قتل کرنے کی جرأت کیوں اور کیسے ہو رہی ہے۔
مولانا محمود مدنی نے خبردار کیا کہ اگر ہم اس بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹا کر مظلوم کے لباس اور حلیے پر بحث شروع کر دیں گے، تو نادانستہ طور پر تشدد کی تمام تر ذمہ داری مجرم سے ہٹ کر خود متاثرہ شخص کے کندھوں پر منتقل ہو جائے گی، جو کہ کسی بھی مہذب اور جمہوری سماج کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں امن و امان کا قیام صرف اور صرف قانون کی بالادستی، سپریم کورٹ کی جانب سے ’تحسین ایس پوناوالا بنام یونین آف انڈیا‘ کیس میں دی گئی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد کرنے اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 103(2) کو بلا تفریق نافذ کرنے سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے ملک کے تمام انصاف پسند اور سمجھدار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر اس بڑھتی ہوئی نفرت کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ ملک کی نیک نامی اور آئینی ڈھانچے کو محفوظ رکھا جا سکے۔




