بنگلور(فکروخبرنیوز)کرناٹک کی قانون ساز اسمبلی کی تاریخی عمارت ‘ودھان سودھا’ میں فرضی بم دھماکے کی اے آئی (AI) سے تیار کردہ جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کے الزام میں پولیس نے ایک 25 سالہ نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے فوری اقدام کرتے ہوئے افواہ پھیلانے والے ملزم کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت حضرت علی کے طور پر ہوئی ہے، جو اصل میں بہار کے ضلع ارریہ کا رہنے والا ہے۔ ملزم چند ماہ قبل ہی روزگار کی تلاش میں بنگلورو منتقل ہوا تھا اور یہاں پائپ لائن سے متعلق کام کر رہا تھا۔ اس نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے ودھان سودھا میں دھماکے کی ایک ایڈیٹ شدہ ویڈیو تیار کی اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپلوڈ کر دیا، جس سے عوام میں تشویش پھیلی۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ودھان سودھا پولیس اسٹیشن میں باضابطہ کیس درج کیا گیا اور فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس درج کر کے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس بات کا پتہ لگایا جا رہا ہے کہ اس طرح کی سنسنی خیز ویڈیو بنانے اور شیئر کرنے کے پیچھے اس کے کیا مقاصد تھے۔ پولیس نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کی گمراہ کن اور فرضی ویڈیوز وائرل کرنے سے گریز کریں۔
وارتا بھارتی کے ان پٹ کے ساتھ




