ملیشیا کی حکومت نے ملک میں نوجوان نسل خصوصاً بچوں کے ذہنی اور نفسیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک انقلابی اور انتہائی سخت قانون نافذ کر دیا ہے۔ یکم جون سے لاگو ہونے والے اس نئے قانون کے تحت اب 16 سال سے کم عمر کے بچوں اور نوعمروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ نئے ضوابط کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے تمام بڑے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے سے پہلے اب صارفین کے لیے عمر کی سخت تصدیق (ایج ویریفکیشن) کا عمل مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل قوانین کے تحت یہ تمام تر ذمہ داری سوشل میڈیا کمپنیوں پر عائد کی گئی ہے کہ وہ کم عمر بچوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس کھولنے سے روکیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ اس قانون کی پاسداری نہ کرنے والی یا سیکیورٹی خامیوں کو دور نہ کرنے والی ٹیک کمپنیوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی اور ان پر 25 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ البتہ قانون میں یہ نرمی رکھی گئی ہے کہ اگر بچے کسی تکنیکی خرابی یا غلط بیانی کے ذریعے اپنا اکاؤنٹ بنانے میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں، تو اس صورت میں والدین کو مجرم نہیں ٹھہرایا جائے گا اور نہ ہی انہیں کوئی سزا دی جائے گی۔ ملائیشین حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ کی دنیا سے بالکل الگ تھلگ کرنا نہیں ہے، بلکہ انہیں آن لائن پھیلنے والے نقصان دہ مواد، سائبر بلنگ، بلیک میلنگ اور سکرین کے سامنے ضرورت سے زیادہ وقت گزارنے کی لت سے محفوظ رکھنا ہے۔
عالمی سطح پر بچوں کی ذہنی نشوونما پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ طبی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمری میں غیر فلٹر شدہ اور پرتشدد یا غیراخلاقی مواد تک رسائی بچوں کی نفسیات کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کے حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل کے لیے دنیا بھر میں ڈیجیٹل قوانین کو سخت کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر اس نوعیت کا سخت ترین قانون سب سے پہلے آسٹریلیا نے نافذ کیا تھا، جہاں 10 دسمبر 2025 سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کر کے ان کے پرانے اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے تھے۔ آسٹریلیا کے بعد برازیل اور انڈونیشیا نے بھی ایسی ہی پالیسیاں اپنائی ہیں، جبکہ فرانس میں بھی 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسی طرز کی قانون سازی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مختلف ترامیم کے ساتھ منظوری کے آخری مراحل میں ہے۔
دوسری جانب، دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی ‘میٹا’ نے حکومتوں کے ان سخت قوانین پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ میٹا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی یکطرفہ پابندیوں کے نتیجے میں بچے سوشل میڈیا کا استعمال بند نہیں کریں گے، بلکہ وہ ان بڑے اور نگران پلیٹ فارمز کو چھوڑ کر انٹرنیٹ کے ان تاریک حصوں یا غیر منظم ویب سائٹس کا رخ کر سکتے ہیں جہاں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوتا۔ کمپنیوں کے مطابق اس سے آن لائن خطرات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتے ہیں کیونکہ غیر معروف پلیٹ فارمز پر بچوں کی نگرانی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
ملیشیا کی حکومت نے ان تحفظات کے باوجود واضح کیا ہے کہ وہ بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایک مخصوص وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ عمر کی تصدیق کے لیے جدید بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل نظام وضع کر سکیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ملائیشین حکومت کا یہ اقدام بچوں کو سائبر جرائم سے بچانے میں کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے اور عالمی سطح پر دیگر ممالک اس ماڈل کو کس طرح اپناتے ہیں۔




