ایل پی جی بحران میں راحت: امریکہ سے گیس لے کر جہاز منگلورو پہنچ گیا

منگلورو : مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے کے درمیان اتوار کے روز امریکہ سے ایل پی جی لے کر آنے والا ایک کارگو جہاز نیو منگلور بندرگاہ پر پہنچ گیا، جسے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق "Pyxis Pioneer” نامی یہ بحری جہاز 14 فروری کو امریکی ریاست ٹیکساس کے پورٹ آف نیدرلینڈ سے روانہ ہوا تھا اور تقریباً 16,714 میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر منگلورو پہنچا، جہاں اسے ایجس لاجسٹکس کی سہولت پر اتارا جا رہا ہے۔

یہ جہاز روسی خام تیل لے کر آنے والے "Aqua Titan” کے فوراً بعد بندرگاہ پر پہنچا ہے، جو حالیہ دنوں میں توانائی سپلائی کے تناظر میں منگلورو کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ منگلورو ملک کی سب سے بڑی زیر زمین ایل پی جی ذخیرہ گاہ کا مرکز بن چکا ہے، جو ستمبر 2025 میں فعال ہوئی تھی۔ سطح سمندر سے تقریباً 225 میٹر نیچے واقع اس جدید اسٹوریج سہولت کی گنجائش 80 ہزار میٹرک ٹن بتائی جاتی ہے، جو ہنگامی حالات میں سپلائی کو مستحکم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل روسی خام تیل بردار جہاز "Aqua Titan”، جو اصل میں چین جا رہا تھا، بدلتے جغرافیائی حالات کے پیش نظر بھارت کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔ یہ جہاز تقریباً 7.7 لاکھ بیرل خام تیل لے کر منگلورو ساحل پر پہنچا، جسے ساحل سے تقریباً 12 ناٹیکل میل دور آف شور پائپ لائن کے ذریعے منگلور ریفائنری اینڈ پیٹرو کیمیکلز لمیٹڈ (MRPL) تک منتقل کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جاری غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس طرح کی کھیپوں کی آمد سے نہ صرف علاقائی بلکہ قومی سطح پر ایندھن کی سپلائی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔