کنداپور (فکروخبرنیوز) کرناٹک میں پہلی بار بیندور بلاک کے تحت ونڈسے کے گورنمنٹ ماڈل ہائیر پرائمری اسکول میں ’آئرس‘ نامی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی روبوٹ ٹیچرمتعارف کرایا گیا ہے، جس نے دیہی تعلیمی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کو شامل کرتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
یہ منصوبہ میکر لیبس ایڈوٹیکھ پرائیویٹیٹ لیمٹیٹ کے اشتراک سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نافذ کیا گیا ہے جس کا مقصد سرکاری اسکولوں کی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ ’آئرس‘ اس سے قبل کیرالہ کے ایک اسکول میں بھی متعارف کیا جا چکا ہے۔
یہ جدید روبوٹ 20 سے زائد زبانوں میں بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایل کے جی سے دسویں جماعت تک کے طلبہ کے تعلیمی سوالات کے جوابات دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آواز اور حرکات کے ذریعے طلبہ کو سیکھنے کے عمل میں دلچسپی کے ساتھ شامل کرتا ہے۔
یہ روبوٹ نیتی آیوگ کی اٹل ٹنکرنگ لیب اسکیم کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس میں انٹرایکٹو ماڈیولز اور نقل و حرکت جیسی جدید خصوصیات شامل ہیں۔ اسے اسکول کے نصاب کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے جبکہ اساتذہ کو اس نظام کے مؤثر استعمال کے لیے تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ اس روبوٹ کی لاگت تقریباً 3.5 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اقدام روایتی تدریس کو ڈیجیٹل لرننگ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مدد دے گا جس سے نہ صرف تدریسی عمل بہتر ہوگا بلکہ طلبہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں دلچسپی بھی بڑھے گی۔
قابلِ ذکر ہے کہ 111 سال قدیم ونڈسے اسکول ایک مثالی دیہی تعلیمی ادارہ بن چکا ہے جہاں 12 قریبی دیہاتوں کے 334 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ سری موکامبیکا چیریٹیبل ٹرسٹ، ایس ڈی ایم سی، سابق طلبہ اور عملے کے تعاون سے یہ ادارہ مفت انگریزی میڈیم تعلیم، ٹرانسپورٹ اور غیر نصابی سرگرمیوں کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔




