کے جی ایم یو لکھنؤ کے ہاسٹلز میں نان ویج پر پابندی کا معاملہ، کانگریس کا شدید اعتراض

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں واقع مشہور کنگ جارجز میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کے ہاسٹلز اور کینٹینوں میں غیر شاکاہاری (نان ویج) کھانے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد اب اس معاملے نے شدید سیاسی رخ اختیار کر لیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہاسٹل میس اور کینٹینوں سے چکن، انڈے اور بریانی جیسے روایتی پکوانوں کو ہٹا کر صرف شاکاہاری مینو لاگو کرنے کے فیصلے پر ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت اعتراض جتایا ہے۔ کانگریس نے اس اقدام کو طلبہ کی غذائی آزادی پر شب خون اور بی جے پی حکومت کی آمرانہ ذہنیت کا عکاس قرار دیا ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق، کے جی ایم یو انتظامیہ نے ہاسٹل میسوں اور کینٹینوں میں نان ویجیٹیرین کھانا تیار کرنے اور پیش کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس سے قبل ہاسٹل میں ہفتے کے مخصوص دنوں میں طلبہ کو چکن اور انڈے دیے جاتے تھے، جبکہ کینٹین میں بریانی اور رولز دستیاب ہوتے تھے۔ نئے قوانین کے تحت اب صرف دال، سبزیاں، پنیر، چاول اور روٹی جیسی اشیاء ہی فراہم کی جائیں گی۔ یونیورسٹی کے ترجمان کے کے سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قدم طلبہ کے مذہبی اور ثقافتی جذبات کے احترام میں اٹھایا گیا ہے، تاہم اپوزیشن اس دلیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

یوپی کانگریس کے سینئر لیڈر اور ریاستی ترجمان انشو اوستھی نے یونیورسٹی انتظامیہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے سخت حملہ کیا ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کو کسی بھی شہری یا طالب علم کی غذائی عادات اور طرزِ زندگی کو کنٹرول کرنے کا کوئی آئینی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف بی جے پی حکومت کے دور میں ہندوستان دنیا کا ایک بڑا گوشت برآمد (ایکسپورٹ) کرنے والا ملک بن چکا ہے اور خود بی جے پی کے کئی لیڈران، ارکانِ اسمبلی اور وزراء گوشت کے کاروبار میں ملوث ہیں، لیکن دوسری طرف ملک کے اندر عام شہریوں اور طلبہ پر اس طرح کی من مانی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

انشو اوستھی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو نشانہ بناتے ہوئے کئی سنگین سوالات کھڑے کیے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت دوسروں پر پابندیاں لگانے سے پہلے اپنے ہی بڑے لیڈروں کو کیوں نہیں روکتی؟ انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما اور مرکزی وزیر کرن رجیجو کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ان کے اپنے وزراء اور وزرائے اعلیٰ گوشت کھانے کے حق کا سرعام اعلان کرتے ہیں، تو پھر ہاسٹلز میں رہنے والے نوجوان طلبہ کے مینو سے زبردستی نان ویج ہٹانا کہاں کا انصاف ہے؟ کانگریس نے اسے نوآبادیاتی دور کی ذہنیت اور سراسر آمریت قرار دیا ہے۔

اس سیاسی تنازعے نے یونیورسٹی کیمپس کے اندر موجود مسلم اور دیگر اقلیتی و پسماندہ طبقات کے طلبہ میں تشویش کی لہر دوڑ دی ہے، جو طویل عرصے سے ہاسٹل کی ان سستی غذائی سہولیات پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ انسانی حقوق اور شخصی آزادی کے نقطہ نظر سے اس فیصلے کو شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کی پابندیاں طلبہ کے درمیان غیر ضروری خلیج پیدا کرتی ہیں اور بی جے پی حکومت ایسے اقدامات کے ذریعے اصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

شیئر کریں۔