بنگلورو (فکروخبرنیوز) کرناٹک میں ایس آئی آر کے پروسیس کے دوران علمائے کرام اور ملی رہنماؤں نے ووٹرز کو شدید بیداری اور چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ جن شہریوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایس آئی آر نوٹس موصول ہو رہے ہیں وہ تمام ضروری دستاویزات اور ثبوت تیار رکھیں اور مقررہ تاریخ و وقت پر الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کے سامنے پیش ہوکر اپنے ووٹنگ کے بنیادی حق کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
بنگلورو کی مسجد قادریہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ ووٹرز صرف اس بات پر مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں کہ ان کا نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں موجود ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ الیکشن کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر چیک کریں کہ آیا ان کا نام نوٹسز حاصل کرنے والے ووٹرز کی فہرست میں شامل ہے یا نہیں۔ مولانا مجددی نے خبردار کیا کہ اگر ووٹر لسٹ سے نام خارج ہو گیا تو مستقبل میں پاسپورٹ، راشن کارڈ، جائداد کی خرید و فروخت اور دیگر سرکاری امور میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے ریاست بھر میں مساجد، مدارس، سماجی تنظیموں اور نوجوانوں کی جانب سے قائم کیے گئے ہیلپ سینٹرز کی خدمات کی ستائش کی۔
جمعیت علمائے ہند کرناٹک کے صدر مفتی افتخار احمد قاسمی نے واضح کیا کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ حتمی نہیں ہے اور نوٹسز کی کارروائی کے دوران نام خارج کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈرافٹ لسٹ میں نام غائب ہے تو فوری طور پر متعلقہ بوتھ لیول آفیسر (BLO) سے رابطہ کریں۔ نوٹس ملنے کی صورت میں ای آر او کے پاس تمام درکار دستاویزات جمع کروائیں تاکہ آپ کا نام فائنل لسٹ میں برقرار رہے اور یہ خدمات اکتوبر میں حتمی لسٹ کی اشاعت تک جاری رہنی چاہئیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید شبیر احمد ندوی نے بتایا کہ کرناٹک میں ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے کے تحت الیکشن کمیشن نے تقریباً 43.80 لاکھ ایسے ووٹرز کی نشان دہی کی ہے جن کے ریکارڈ میں تکنیکی یا لاجیکل تفاوت ہے۔ انہوں نے ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ مقامات پر لوگ نوٹس لینے یا ای آر او کے سامنے پیش ہونے سے ہچکچا رہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کا رویہ آئندہ کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرناٹک میں 15 لاکھ سے زائد مسلم ووٹرز کے نام متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر بلا تفریق مذہب و ملت ہر شہری کی مدد کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ پریس کانفرنس میں مولانا عاصم اور مفتی محمد حسین بھی موجود تھے۔




