بنگلورو(فکروخبرنیوز) کرناٹک کے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک بڑی اور سخت کارروائی کرتے ہوئے ملک کے نامور ای کامرس اور کوئیک کامرس پلیٹ فارمز ایمیزون (Amazon)، انسٹا مارٹ (Instamart) اور بگ باسکٹ (BigBasket) کے فوڈ لائسنس معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ اقدام ان آن لائن پلیٹ فارمز پر انتہائی زہریلے پودے ‘دھتورا’ (Datura) کے پھل اور بیجوں کو قابلِ خوراک مصنوعات کے طور پر آن لائن پیش کرنے اور بیچنے کی سنگین شکایت کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
محکمہ کو موصول ہونے والی شکایتوں اور کی گئی ابتدائی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ان آن لائن پلیٹ فارمز پر زہریلے دھتورا کے پھل اور بیج آن لائن لسٹڈ تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انتہائی سمی اور انسانی صحت کے لیے مہلک ہونے کے باوجود ان میں سے بعض مصنوعات پر FSSAI کے فوڈ لائسنس یا رجسٹریشن نمبرز درج کیے گئے تھے اور انہیں گوداموں میں رکھ کر سپلائی کیا جا رہا تھا۔ ماہرین کے مطابق دھتورا کا استعمال انسانی دماغ، دل اور اعصابی نظام کے لیے انتہائی خطرناک اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اس معاملے پر فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ کمپنیوں سے وضاحت طلب کی تھی۔ سماعت کے دوران ایمیزون نے کوئی جواب داخل نہیں کیا، جبکہ انسٹا مارٹ نے اقدامات کی تفصیلات جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا۔ بگ باسکٹ نے بتایا کہ انہوں نے ان مصنوعات کی فروخت روک دی ہے اور مستقبل میں ‘انسانی استعمال کے لیے نہیں’ کا واضح لیبل لگایا جائے گا۔ تاہم فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے کمپنیوں کے جوابات کو مکمل طور پر غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنی خطرناک شئے کو کھانے کے طور پر ذخیرہ کرنا یا بیچنا شدید قانون شکنی ہے۔ اس کے بعد آئندہ احکامات تک تینوں پلیٹ فارمز اور ان کے سپلائرز کے لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ کرناٹک میں ان دنوں فوڈ سیفٹی مہم میں شدید تیزی آئی ہے، جس کے تحت اب تک 2,000 سے زائد ہوٹلوں، ہاسٹلوں اور فوڈ گوداموں پر چھاپے مار کر زہریلی یا غیر معیاری غذاؤں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا چکی ہے۔




