کرناٹک: نصیر احمد کی برطرفی اور ٹکٹ تنازع، کانگریس قیادت سوالوں کے گھیرے میں

ضمیر احمد خان پر بھی کارروائی کے آثار، اقلیتی قیادت میں بڑھتی ناراضگی

کرناٹک میں کانگریس پارٹی اس وقت شدید داخلی بحران سے دوچار دکھائی دے رہی ہے، جہاں داونگیرے جنوبی اور باگلکوٹ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے قبل ہی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ کانگریس کے سینئر ایم ایل سی عبدالجبار کے استعفیٰ کے بعد وزیر اعلیٰ سدارامیا کے سیاسی سکریٹری نصیر احمد کو عہدے سے ہٹایا جانا پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی کی واضح علامت سمجھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق نصیر احمد کی برطرفی داونگیرے جنوبی ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی لائن سے ہٹ کر سرگرمیوں کے الزامات کے بعد عمل میں آئی۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس پیش رفت نے خاص طور پر کولار اور اطراف کے علاقوں میں پارٹی کارکنان کے درمیان ناراضگی کو جنم دیا ہے جہاں نصیر احمد خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

ادھر وزیر ضمیر احمد خان کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ وہ پارٹی قیادت کی ناراضگی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ داونگیرے جنوبی نشست کے لیے امیدوار کے انتخاب کے دوران انہوں نے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کی بھرپور وکالت کی تھی۔ ایک اہم اجلاس میں، جس میں نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار اور سینئر رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا بھی موجود تھے، ضمیر احمد خان نے یہاں تک پیشکش کی تھی کہ اگر مسلم امیدوار کامیاب نہ ہوا تو وہ وزارت سے استعفیٰ دے دیں گے۔

لیکن پارٹی نے مرحوم شمانور شیوشنکرپا کے پوتے سمرتھ شمانور کو ٹکٹ دیا، جس کے بعد اقلیتی طبقے کے ایک حصے میں ناراضگی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ پارٹی کے اندر ٹکٹ کی تقسیم اور قیادت کے فیصلوں کو لے کر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کانگریس ہائی کمان کی جانب سے نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے کیے گئے اقدامات وقتی طور پر ضروری ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ردعمل پارٹی کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت جب پارٹی حزبِ مخالف بی جے پی کے نشانہ پر ہے۔

وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی ہائی کمان کی ہدایت پر کی گئی ہے، تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت آئندہ کسی بھی بڑے قدم سے قبل حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔

موجودہ صورتحال نے کرناٹک کانگریس کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کھڑا کر دیا ہے، اور اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا پارٹی قیادت اختلافات کو سلجھا کر اتحاد برقرار رکھ پاتی ہے یا یہ بحران آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرتا ہے۔

شیئر کریں۔