بنگلور : کرناٹک میں مون سون کی کمی اور بارش کی شدید قلت کے باعث ریاست کو آنے والے دنوں میں پینے کے پانی اور بجلی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کرناٹک اسٹیٹ نیچرل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے مہینے میں بارش کا تناسب انتہائی تشویشناک حد تک گر گیا ہے۔ ستمبر میں معمول کی 51 ملی میٹر بارش کے مقابلے میں اب تک صرف 10 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ 81 فیصد کی بھاری کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ ڈی کے شوکمار نے اپنے حلقہ کناکا پورہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جون سے ہی ریاست بھر میں مون سون میں مسلسل کمی رہی۔ جون میں 42 فیصد، جولائی میں 29 فیصد اور اگست میں معمول سے کہیں کم بارشیں ہوئی ہیں۔ ستمبر کی اس شدید قلت نے حالات کو مزید ابتر بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح گر چکی ہے اور کسانوں کی تیار فصلیں تباہ ہو گئی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں بوائی تک نہیں ہو سکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ریاست کے 239 تعلقہ جات میں سے 200 سے زائد تعلقہ جات خشک سالی سے متاثر ہیں۔ حکومت پہلے ہی 101 تعلقہ جات کو قحط زدہ قرار دے چکی ہے اور مرکزی رہنما خطوط کے مطابق مزید علاقوں کو بھی قحط زدہ فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ بارش کی کمی کے باعث ہائیڈرو پاور (پانی سے بجلی کی پیداوار) پر برا اثر پڑا ہے، جبکہ گزشتہ ہفتے سیکنڈ پیک اور نائٹ آورز میں بجلی کی طلب 19,000 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔ حکومت کو 11 سے 13 روپے فی یونٹ کے مہنگے داموں بجلی خریدنی پڑ رہی ہے۔
اس بحران پر قابو پانے کے لیے وزیر توانائی کے جے جارج کو پڑوسی ریاستوں اور مرکزی ‘ون نیشن، ون گرڈ’ سسٹم کے ذریعے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ قحط کی صورتحال پر کوئی سیاست نہیں کی جائے گی اور ہر متاثرہ علاقے کو امداد دی جائے گی۔ خشک سالی کی صورتحال اور کسانوں کے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کے لیے 21 سے 23 ستمبر تک کرناٹک اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، 18 ستمبر کو منگلورو (جنوبی کنڑ) میں ریاستی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوگا، جس میں ساحلی خطے کے وسائل کو بروئے کار لانے اور مقامی ترقی کے لیے اہم اعلانات کیے جائیں گے۔




