بنگلورو: کرناٹک کے تقریباً 30 سینئر کانگریسی اراکینِ اسمبلی نے وزارتی عہدوں کے حصول اور ریاستی کابینہ میں ردوبدل کے مطالبے کو لے کر پارٹی ہائی کمان سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ رہنما نئی دہلی میں راہل گاندھی سے ملاقات کی امید کر رہے ہیں تاکہ وزیر اعلیٰ سدارامیا پر کابینہ میں تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
یہ پیش رفت مارچ میں ایک عشائیہ میٹنگ کے دوران طے شدہ حکمت عملی کے بعد سامنے آئی، جہاں ضمنی انتخابات کے بعد بڑھتے ہوئے مطالبات کے پیش نظر قانون سازوں نے اجتماعی طور پر اپنی حکمت عملی تیار کی تھی۔
پیر کو طے شدہ دورے سے قبل کانگریس ایم ایل اے بیلور گوپال کرشنا نے بتایا کہ متعدد بار اجلاس منعقد کرنے کے بعد اس گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ متحد ہو کر وزارتی مواقع کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ایسے لیڈر ہیں جنہیں تین، چار بلکہ پانچ مرتبہ وزارت کا موقع ملا ہے، جبکہ کچھ اب تک محروم ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نئے لوگوں کو بھی موقع دیا جائے۔
اسی طرح کانگریس ایم ایل اے اشوک پٹن نے بھی اجتماعی قیادت کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ میں جلد از جلد ردوبدل ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کابینہ میں تبدیلی ہو اور ہم جیسے سینئر اراکین کو بھی موقع دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ دو سال بعد نئے لوگوں کو شامل کیا جائے گا، لیکن اب تقریباً تین سال گزر چکے ہیں، جس کی وجہ سے اراکین میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ گروپ ملکارجن کھرگے سمیت پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں جیسے کے سی وینوگوپال اور رندیپ سرجیوالا سے بھی ملاقات کی کوشش کرے گا۔
اراکین کا کہنا ہے کہ کابینہ کی وسیع تنظیم نو کے ذریعے تقریباً 25 عہدے خالی کیے جائیں تاکہ نئے چہروں کو موقع مل سکے۔ ان کے مطابق کئی رہنما طویل عرصے سے بار بار وزارتوں پر فائز ہیں، جس کی وجہ سے دیگر اراکین کے لیے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔
قانون سازوں نے واضح کیا کہ ان کے دورے کا واحد مقصد کابینہ میں توسیع اور ردوبدل ہے، اور وہ اپنی قیادت کے سامنے اجتماعی طور پر اپنے مطالبات پیش کریں گے۔




