بنگلورو(فکروخبرنیوز) کرناٹک حکومت کی مقبول عام ‘گرہا جیوتی’ (مفت بجلی) اسکیم کو لے کر ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ریاست بھر میں اس اسکیم کا فائدہ اٹھانے والے تقریباً 24 لاکھ صارفین نے اپنے ضروری دستاویزات کی تصدیق (Verification) اب تک مکمل نہیں کروائی ہے۔ دوسری جانب، 1.10 لاکھ سے زائد صارفین نے رضا کارانہ طور پر مفت بجلی کی اس سہولت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
بسکام (BESCOM) کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر این شیو شنکر نے جاری تصدیقی مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں درج رجسٹرڈ 1.69 کروڑ صارفین میں سے 24 لاکھ افراد نے اپنے کاغذی ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں۔ صرف بسکام کے دائرہ اختیار میں آنے والے 69 لاکھ استفادہ کنندگان میں سے 16 لاکھ صارفین کی تصدیق باقی ہے کیونکہ وہ عملے سے تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ گزشتہ چار ماہ سے بسکام کا عملہ گھر گھر جا کر دستاویزات کی تصدیق کر رہا ہے لیکن مقفل مکانات، کرائے داروں کی منتقلی اور اپارٹمنٹس کے رہائشیوں کے عدم تعاون کی وجہ سے یہ کام التوا کا شکار ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن 16 لاکھ بسکام صارفین نے عملے کے تین بار دورہ کرنے اور موبائل پر ایس ایم ایس (SMS) بھیجنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا، ان کی حتمی رپورٹ ریاستی حکومت کو سونپی جائے گی۔ بسکام نے واضح کیا ہے کہ 31 اکتوبر کے بعد دستاویزات جمع کرانے کی تاریخ میں مزید کوئی توسیع نہیں کی جائے گی اور متعلقہ صارفین کی سبسڈی جاری رکھنے کے بارے میں حتمی فیصلہ حکومت ہی کرے گی۔




