بنگلورو: کرناٹک کے وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ ریاست کے گنا کسانوں اور شوگر مل مالکان کو درپیش مسائل کو پرامن اور باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے دسہرا کے تہوار کے فوراً بعد ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے تمام فریقین، سرکاری حکام اور وزراء کو ایک میز پر لائے گی۔
ریاست میں گنا کسان 5,500 روپے فی ٹن قیمت مقرر کرنے، چینی کی کم از کم فروخت کی قیمت 60 روپے فی کلوگرام کرنے اور ایتھنول پالیسی پر نظرثانی جیسے اہم مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔ کسانوں نے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کے لیے ‘ہبلی چلو’ کا نعرہ بھی دیا تھا، جسے حال ہی میں رہنماؤں کے ساتھ ہوئی بات چیت کے بعد عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ انہوں نے منگل کی صبح شوگر ملوں کے نمائندوں سے بات کی ہے اور جلد ہی کسان رہنماؤں سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا، "کسانوں اور مل مالکان دونوں کے مسائل کو الگ الگ سننا ضروری ہے۔ یہ تمام لوگوں کی روزی روٹی کا معاملہ ہے، اس لیے ہمیں ایسا راستہ نکالنا ہوگا جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شوگر ملیں کسانوں کے بغیر نہیں چل سکتیں، اور ملوں کے نقصان میں جانے سے ان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا، لہٰذا دونوں کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس میٹنگ میں گنا پیدا کرنے والے اضلاع کے وزراء، محکماتی حکام اور علاقائی ارکانِ اسمبلی و پارلیمان کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ انہوں نے مقامی بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق 31 دسمبر سے قبل انتخابات کرانے کی تیاریاں جاری ہیں اور الیکشن کمیشن 27 تاریخ کو ووٹر فہرست جاری کرے گا۔




