کرناٹک فارم 7 تنازعہ : بی جے پی کارکنان کے خلاف درج ایف آئی آر پر بی جے پی لیڈران برہم ، ڈی جی پی سے کی ملاقات

منگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR) کے دوران فارم 7 کے مبینہ غلط استعمال اور پولیس کارروائیوں کو لے کر سیاسی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنماؤں اور رکن اسمبلیوں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل اینڈ انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ایم اے سلیم سے ملاقات کر کے ایک یادداشت پیش کی، جس میں انہوں نے فارم 7 کے تحت اعتراضات درج کرانے والے بی جے پی کارکنوں پر درج کی گئی ایف آئی آرز (FIRs) کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کے اس وفد میں سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا، بی جے پی کے ریاستی صدر بی وائی وجیندر، اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر اشوک اور لیجسلیٹو کونسل میں قائدِ حزبِ اختلاف چلواڈی نارائنا سوامی سمیت متعدد اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی شامل تھے۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے احتجاج کے بعد کانگریس حکومت کے دباؤ میں آ کر پولیس بی جے پی کارکنوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ان پر مقدمات درج کر رہی ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ فارم 7 الیکشن کمیشن کا ایک آئینی و قانونی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے کوئی بھی ووٹر لسٹ میں غیر قانونی یا جعلی ناموں پر اعتراض درج کرا سکتا ہے، لہٰذا صرف فارم جمع کرانے کو مجرمانہ فعل نہیں گردانا جا سکتا۔

وفد نے واضح کیا کہ 2023 کے الیکشن کمیشن گائیڈ لائنز کے مطابق فارم 7 جمع کرانے کی کوئی تعداد متعین نہیں ہے، تاہم اگر کسی نے جان بوجھ کر غلط معلومات یا جعلی دستخط استعمال کیے ہوں تو اس پر انفرادی سطح پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، نہ کہ یکطرفہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔ سابق وزیر اعلیٰ یدی یورپا نے پولیس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کارکنوں کی ہراسانی اور گرفتاری کا سلسلہ بند نہ ہوا تو پارٹی پورے ریاست میں شدید احتجاج درج کرائے گی۔ دوسری جانب بی جے پی رہنماؤں نے سوشل میڈیا اور سیاسی پلیٹ فارمز پر فارم 7 کے فارمز اور ووٹرز کی ذاتی معلومات و موبائل نمبرز وائرل ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں۔