بنگلورو: کرناٹک قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل نے اپوزیشن بی جے پی اور جے ڈی ایس کے شدید ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان بغیر کسی بحث کے 10 اہم ترمیم شدہ بل پاس کر دیے ہیں۔ یہ تمام بل مانسون اجلاس کے آخری دن ایوان میں پیش کیے گئے، جس کے فوری بعد دونوں ایوانوں کی کارروائی غیر معینہ مدت (Sine Die) کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
اپوزیشن اراکین والی ملکی اسٹاف اینڈ شیڈیولڈ ٹرائبس ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں کروڑوں روپے کے مبینہ گھوٹالے میں چارج شیٹ شدہ وزیر بی ناگیندر کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے 10 روزہ مانسون اجلاس اپنے طے شدہ وقت سے دو دن قبل ہی ختم کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ ڈی کے شوکمار کے بحیثیت وزیر اعلیٰ عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ریاستی قانون ساز اسمبلی کا پہلا مانسون اجلاس تھا۔
منظور کیے گئے بلوں میں ‘کرناٹک گورنمنٹ پارکس (پریزر ویشن) ترمیمی بل 2026’ سب سے نمایاں ہے، جس پر عوامی تنظیموں، ماحول دوست شہریوں اور بنگلورو سے بی جے پی اراکینِ پارلیمان نے شدید اعتراض جتایا ہے۔ اس نئے ترمیمی بل کے تحت سرکاری محکموں، مقامی اداروں اور ہائی وے جیسے عوامی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے پارک کی 5 فیصد زمین فروخت، لیز، تحفہ یا رہن رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس ترمیم سے بنگلورو کے مشہور ‘لال باغ بوٹینیکل گارڈن’ کی 5 فیصد زمین بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایوان سے منظور ہونے والے دیگر بلوں میں جی ایس ٹی ترمیمی بل، کرناٹک شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ بل، گرام سوراج و پنچایت راج بل اور ایپروپریشن بل شامل ہیں۔




