جموں یونیورسٹی میں ایم اے پولیٹیکل سائنس کے نصاب کو لے کر ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے، جہاں یونیورسٹی کی جانب سے قائم ایک جائزہ کمیٹی نے پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح، سر سید احمد خان اور علامہ محمد اقبال سے متعلق موضوعات کو نصاب سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی جانب سے حالیہ دنوں میں ان ابواب کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا اور نصاب سے ان شخصیات کے تذکرے کو نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی نے جمعہ کے روز جموں یونیورسٹی میں مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح سے متعلق باب کو نصاب سے خارج کیا جائے۔ یہ باب قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت نظرثانی شدہ پوسٹ گریجویٹ نصاب میں شامل کیا گیا تھا۔ احتجاج کے بعد شعبہ پولیٹیکل سائنس میں 22 مارچ کو اساتذہ اور ڈیپارٹمنٹل افیئرز کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں ایک سالہ اور دو سالہ پوسٹ گریجویٹ پروگرام کے نصاب کا جائزہ لیا گیا۔
شعبہ کے سربراہ پروفیسر بلجیت سنگھ مان کے مطابق اجلاس میں متفقہ طور پر یہ سفارش منظور کی گئی کہ محمد علی جناح، سر سید احمد خان اور علامہ اقبال سے متعلق موضوعات کو نصاب سے ہٹا دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی سفارشات اب بورڈ آف اسٹڈیز کو بھیج دی گئی ہیں، جہاں 24 مارچ کو متوقع آن لائن اجلاس میں اس مسئلے پر مزید غور کیا جائے گا۔ اس طرح حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، تاہم کمیٹی کی متفقہ سفارش نے تعلیمی اور سیاسی حلقوں میں بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس سے پہلے یونیورسٹی انتظامیہ نصاب کا دفاع کر چکی ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ جناح، سر سید اور علامہ اقبال جیسی شخصیات کو کسی سیاسی تائید کے تحت نہیں بلکہ خالص تعلیمی مقصد کے لیے شامل کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ شمولیت یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے رہنما اصولوں کے مطابق کی گئی اور طلبہ کو جدید ہندوستانی سیاسی فکر کے مختلف دھاروں سے روشناس کرانے کے لیے نصاب ترتیب دیا گیا تھا۔
“جدید ہندوستانی سیاسی فکر” کے ماڈیول میں صرف انہی شخصیات کو شامل نہیں کیا گیا تھا بلکہ مختلف نظریاتی پس منظر رکھنے والے دوسرے اہم نام بھی نصاب کا حصہ ہیں۔ ان میں ونایک دامودر ساورکر، ایم ایس گولوالکر، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے رہنما اور مفکرین شامل ہیں۔ اسی وجہ سے یونیورسٹی کے بعض حلقے یہ موقف رکھتے ہیں کہ کسی بھی شخصیت کو سمجھنے کے لیے اس کے نظریات کا تعلیمی مطالعہ ضروری ہے، خواہ اس کی سیاسی حیثیت متنازع ہی کیوں نہ ہو۔
اس پیش رفت کے وسیع تر اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ایک طرف یہ قدم تعلیمی اداروں میں نصاب کی تشکیل پر سیاسی دباؤ کے سوال کو جنم دے رہا ہے، تو دوسری جانب یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ کیا یونیورسٹیوں میں تاریخ اور سیاسی فکر کا مطالعہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر محدود کیا جانا چاہیے۔ ناقدین کے نزدیک اگر کسی شخصیت کو محض سیاسی مخالفت یا عوامی جذبات کے دباؤ میں نصاب سے نکالا جاتا ہے تو اس سے اعلیٰ تعلیم کے آزادانہ اور تحقیقی مزاج پر اثر پڑ سکتا ہے۔
جموں یونیورسٹی کا یہ معاملہ اب محض ایک نصابی تبدیلی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ملک کے تعلیمی اداروں میں تاریخ، سیاست اور نظریاتی مطالعے کی سمت سے جڑا ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ اب سب کی نظریں 24 مارچ کو ہونے والے بورڈ آف اسٹڈیز کے اجلاس پر لگی ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ کمیٹی کی سفارشات کو منظوری ملتی ہے یا یونیورسٹی اپنے پہلے مؤقف پر قائم رہتی ہے۔
