جامعہ میں طلبہ کی تحریک 16ویں دن میں داخل، حتمی تاریخ کے اعلان تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں واقع تاریخی اقلیتی درسگاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے کو لے کر جاری طلبہ کی غیر معینہ تحریک منگل کے روز سولہویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے یونین کے نئے آئین کی منظوری کے پندرہ دنوں کے اندر انتخابات کرانے اور معطلی کے نوٹسز واپس لینے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم مظاہرین نے کسی ٹھوس تاریخ کے بغیر اس مشروط پیشکش کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک یونین کے آئین کو منظور کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن اور پولنگ کی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں ہوتا، پرامن دھرنا جاری رہے گا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ سرکلر میں احتجاج میں شامل طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیاں اور شوکاز نوٹسز منسوخ کرنے کے علاوہ سیکیورٹی عملے کی سختیوں کی جانچ کے لیے کمیٹی بنانے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود طلبہ قیادت نے نشاندہی کی کہ انتظامیہ نے آئین کی منظوری کے عمل کے لیے کوئی واضح ٹائم فریم طے نہیں کیا ہے، جس سے انتخابات کے غیر معینہ مدت تک ٹلنے کا اندیشہ برقرار ہے۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے طالب علم ریحان خان نے واضح کیا کہ کیمپس میں جمہوری عمل کی فوری بحالی اور ووٹنگ کے شیڈول کا اجراء بنیادی تقاضا ہے۔ دوسری جانب انتظامیہ نے ریحان خان کو دھرنے کی جگہ فوری خالی کرنے کا نوٹس تھماتے ہوئے بصورت دیگر قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔

جامعہ میں سال 2006 کے بعد سے اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات تعطل کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ کو اپنے تعلیمی و فلاحی مسائل انتظامیہ کے سامنے رکھنے کے لیے منتخب فورم میسر نہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری اس خلا نے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کی ہے، جو اب کیمپس کی سڑکوں پر کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ موجودہ تحریک کے دوران امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے 24 اکتوبر سے کیمپس میں تدریسی سرگرمیاں معطل کرکے تمام کورسز کی کلاسز آن لائن منتقل کر دی ہیں، جنہیں اب آٹھ نومبر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کیمپس کے مرکزی دروازوں اور ملحقہ علاقوں میں دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، جہاں پیر کے روز یونیورسٹی میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران طلبہ اور سیکیورٹی اہلکاروں کے مابین کھینچ تان بھی دیکھی گئی۔ صورتحال کے پیش نظر جامعہ نگر میں معروف دانشوروں، سول سوسائٹی کے ارکان اور سابق طلبہ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کرکے طلبہ کے مطالبات کی کھل کر حمایت کی۔ سابق رجسٹرار صدیق الرحمٰن قدوائی، سابق وائس چانسلر سیدہ حمید اور ثمینہ مشرا سمیت متعدد ماہرین تعلیم نے زور دیا کہ تاریخی اقلیتی یونیورسٹی میں طلبہ کی جمہوری نمائندگی کو تسلیم کرنا کیمپس کے پرامن ماحول کے لیے ناگزیر ہے۔

این ایس یو آئی، اے آئی ایس ایف، ایس ایف آئی، اے آئی ڈی ایس او، آئیسا اور دیشا جیسی قومی طلبہ تنظیموں نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے انتظامیہ سے ہٹ دھرمی چھوڑ کر مذاکرات کی راہ اپنانے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ہمیشہ ملک کی جمہوری تحریکوں اور شعور کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے، لہٰذا اس ادارے کے اندر منتخب یونین پر دو دہائیوں کی پابندی نہ صرف انتظامی توازن کو بگاڑتی ہے بلکہ نوجوانوں کو قیادت کی تربیت سے بھی محروم رکھتی ہے۔

شیئر کریں۔