بھٹکل (فکروخبرنیوز) دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے مہتمم ، عربی کے مایہ ناز ادیب و صحافی حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی رحلت پر جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں آج صبح گیارہ بجے تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں جامعہ کے ذمہ داران اور اساتذہ نے حضرتؒ کی 70 سالہ علمی، صحافتی اور تربیتی خدمات حاضرین کے ساتھ رکھی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ شوریٰ ندوۃ العلماء مولانا محمد الیاس ندوی نے حضرتؒ کی شخصیت کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ مولانا نے کہا کہ تیسری کڑی کے دبستان ندوہ کے آخری چراغ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ تھے، ابھی حال ہی میں ندوہ کے جن اکابرکی رحلت ہوئی شاید ہی وہ ملک کے کسی ادارے میں اس طرح کے سانحے پیش آئے ہوں۔ انہوں نے ندوۃ العلماء کی ایک خاص علمی و اخلاقی روایت اور امتیاز کا تذکرہ کرتے ہوئے خصوصی طور پر زور دیا کہ ندوہ کی یہ عظیم الشان روایت رہی ہے کہ جن اساتذہ نے 30 یا 40 سال ادارے کو دیے ہوں، انہیں کبھی معزول نہیں کیا جاتا اور نہ ہی بڑھاپے کی بنیاد پر الگ کیا جاتا ہے، بلکہ ان کے ساتھ اس تعلق اور احترام کو آخری وقت تک برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ندوہ کے اساتذہ طویل عمر پانے کے باوجود معزول ہوئے بغیر پڑھتے اور پڑھاتے ہوئے ہی اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ مولانا الیاس ندوی نے مزید کہا کہ حضرتؒ کی شخصیت میں بلا کا رعب اور ہیبت تھی، لیکن جب بھی کوئی ان سے ملاقات کے لیے جاتا تو وہ آخری درجے کی شفقت اور محبت کا اظہار فرماتے تھے۔ انہیں اپنے اکابر کا بے حد اعتماد حاصل تھا اور تقریباً 70 سال تک عربی مجلے کے مدیر رہ کر عالمِ عربی کے حالات پر گہری نظر رکھتے تھے، جو دنیا کی تاریخ میں ایک نایاب مثال ہے۔ مولانا نے ان کے قرآن کریم سے ان کے تعلق کو بھی بیان کیا۔
اس موقع پر جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے ناظم مولانا طلحہ ندوی نے حضرتؒ کے منفرد مزاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت کا ایسا رعب تھا کہ ان کے دفتر کے سامنے سے گزرنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی تھی۔ مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی نے کہا کہ حضرتؒ نے 70 تا 75 سال پر محیط طویل عمر میں نسلوں کی تربیت کی ہے۔ انہوں نے حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ سرپرستی اور مولانا محمد الحسنیؒ کی رفاقت میں عربی زبان و ادب کی نشاة الثانیہ میں جو تاریخی اور انقلابی کردار ادا کیا، وہ قیامت تک یاد رکھا جائے گا۔
مولانا عبدالمتین منیری نے البعث الاسلامی کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ عالمِ عربی کے حالات سے ان کی واقفیت اس حیثیت سے ممتاز تھی کہ ان کے مضامین سے عربوں کو اپنے حالات سے واقفیت حاصل ہوجاتی تھی۔ مولانا عالمِ عربی پر بہت کچھ لکھا اور انہیں ان کی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کرایا۔ اسی طرح عربی ادب کی خدمت کرکے وہ ممتاز لوگوں میں شامل ہوگیے۔
اجلاس میں مولانا عبدالرب ندوی اور مولانا عبدالعظیم ندوی اور دیگر نے بھی حضرتؒ کو عالمی سطح کی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی وقت کی پابندی، اکابر بالخصوص مولانا رابع حسنی ندویؒ کے بے مثال احترام اور قرآنی شغف کا تذکرہ کیا۔ تمام حاضرین نے حضرتؒ کے لیے بلندیٔ درجات اور ندوۃ العلماء کے لیے نعم البدل کی دعائیں کیں۔
اجلاس کی نظامت مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا مقبول احمد ندوی نے انجام دیئے۔ اس دوران انہوں نے جامعہ اور بھٹکل سے حضرتؒ کے تعلق کی مختلف مثالیں پیش کرتے ہوئے ان کے اوصاف کو اپنانے پر زور دیا۔
اسٹیج پر صدر جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا عبدالعلیم قاسمی اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔




