مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں واقع برگی ڈیم میں پیش آنے والا کروز جہاز کا حادثہ جہاں ایک بڑے المیے کی صورت میں سامنے آیا ہے، وہیں اس حادثے نے انسانی ہمدردی اور جرات کی ایک ایسی مثال بھی قائم کی ہے جو مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ جب تیز آندھی اور لہروں کے باعث سیاحوں سے بھرا کروز جہاز دریائے نرمدا کی لہروں میں ڈوب رہا تھا اور چاروں طرف چیخ و پکار مچی تھی، تب وہاں قریب ہی زیر تعمیر پل پر کام کرنے والے مزدوروں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر لہروں میں چھلانگ لگا دی۔ ان مزدوروں نے سرکاری امدادی ٹیموں کے پہنچنے سے دو گھنٹے پہلے ہی محاذ سنبھال لیا اور موت کے منہ سے 17 افراد کو بحفاظت نکال لائے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق برگی ڈیم پر اس وقت ایک بڑے پل کی تعمیر کا کام جاری ہے جہاں بہار، مغربی بنگال اور اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے تقریباً 35 مزدور کام کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق کروز جہاز کے ڈوبنے سے چند منٹ پہلے ہی موسم انتہائی خراب ہو گیا تھا اور تیز ہواؤں کی وجہ سے جہاز بے قابو ہو رہا تھا۔ مزدوروں نے پائلٹ کو رکنے کا اشارہ بھی کیا لیکن پائلٹ نے مبینہ طور پر جہاز کو واپس موڑنے کے بجائے مزید آگے بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں جہاز توازن کھو کر الٹ گیا۔
مغربی بنگال کے رہنے والے 22 سالہ نوجوان رمضان نے بہادری کی انتہا کرتے ہوئے تقریباً 25 فٹ کی بلندی سے ڈیم کے گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ رمضان نے بتایا کہ اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے لوگوں کو ڈوبتے دیکھا تو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہچکچایا اور رسی لے کر پانی میں کود گیا۔ اس نے تن تنہا 6 افراد کو پانی سے نکالا جن میں سے 4 کی جان بچ گئی، جبکہ دو افراد دم توڑ چکے تھے۔ اسی طرح مغربی چمپارن (بہار) کے 28 سالہ بندرا کمار یادو اور گورکھپور کے شیو ناتھ نے بھی اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور رسیوں کے سہارے ڈوبتے ہوئے مسافروں کو کنارے تک پہنچایا۔
ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ سب بہترین تیراک ہیں اور ڈیم پر کام کرنے کی وجہ سے لہروں کے مزاج سے واقف تھے۔ حادثے کے دو گھنٹے بعد جب سرکاری ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں، تب تک یہ گمنام ہیرو 17 زندگیاں بچا چکے تھے اور چار لاشیں بھی نکال چکے تھے۔ انتظامیہ کے مطابق اس المناک حادثے میں اب تک مجموعی طور پر 13 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان مزدوروں کی بروقت کارروائی نے ہلاکتوں کی تعداد کو مزید بڑھنے سے روک دیا، جس کی اب پورے ملک میں ستائش کی جا رہی ہے۔



