نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے اسرائیلی اپوزیشن کا عرب جماعتوں سے رابطہ

اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں بنجامن نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کے واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد ملک کی سیاست میں ڈرامائی موڑ آ گیا ہے۔ اسرائیل کی بائیں بازو کی جماعت ’دی ڈیموکریٹس‘ کے سربراہ یائر گولان نے حزب اختلاف کے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے فلسطینی عرب شہریوں کی نمائندہ جماعتوں سے اشتراک کریں۔ تقریباً بہتر اعشاریہ چار فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آنے والے عبوری نتائج کے مطابق نیتن یاہو کا بلاک 120 رکنی پارلیمان میں صرف 54 نشستیں حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے، جو کہ حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی سادہ اکثریت سے سات نشستیں کم ہے۔

یائر گولان نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ نیتن یاہو کی اس نسلی تفریق کو مسترد کیا جائے جو یہودی اور عرب ووٹوں کے درمیان خلیج پیدا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں حقیقی تبدیلی کی حکومت قائم کرنے کے لیے اسرائیل کے عرب شہریوں کو برابر کا شراکت دار تسلیم کرنا اخلاقی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ روایتی تعصبات کو ایک طرف رکھ کر اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں کیونکہ عرب جماعتوں کے تعاون کے بغیر نیتن یاہو کی انتہا پسند پالیسیوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔

اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق سابق فوجی سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کی زیر قیادت اپوزیشن بلاک کو 48 نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے، جبکہ فلسطینی عرب شہریوں کی نمائندہ جماعتوں نے تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 18 نشستیں حاصل کرنے کی سمت پیش قدمی کی ہے۔ ان نتائج کی رو سے اگر آئزن کوٹ کی قیادت والا بلاک اور عرب جماعتیں باہمی سمجھوتہ کر لیں تو ان کی مجموعی نشستیں 66 تک پہنچ سکتی ہیں، جو نیتن یاہو کو مستقل طور پر اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے کافی ہیں۔

نشستوں کی تفصیلی صورتحال کے مطابق عرب اکثریت والی ’جوائنٹ لسٹ‘ کو 12 نشستیں اور منصور عباس کی قیادت والی متحدہ عرب فہرست ’راعم‘ کو 4 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ انفرادی جماعتوں میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی 28 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ آئزن کوٹ کی یشار پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ نفتالی بینیٹ کا ٹوگیدر الائنس 11 نشستیں حاصل کر رہا ہے، جبکہ دی ڈیموکریٹس، یونائیٹڈ تورات یہودیت اور اسرائیل بیتینو کو آٹھ آٹھ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ شاس اور بن گویر کی عوتسما یہودیت کو سات سات جبکہ اسموتریچ کی مذہبی صیہونیت کو چھ نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اسرائیل کے سیاسی ڈھانچے میں عرب جماعتوں کو دہائیوں سے ایوان کے فیصلوں اور حکومتی اتحاد سے دور رکھا جاتا رہا ہے، حالانکہ فلسطینی عرب شہری ملک کی کل آبادی کا تقریباً بیس فیصد حصہ ہیں۔ اگرچہ ماضی میں نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کی مخلوط حکومت کے دوران راعم جماعت کو مختصر عرصے کے لیے حکومتی ڈھانچے میں شامل کیا گیا تھا، لیکن اپوزیشن کے بیشتر دائیں بازو کے ارکان عرب ارکان کے ساتھ باضابطہ اتحاد کرنے پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ یائر گولان کا یہ حالیہ موقف اس سیاسی دائرے کو توڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انتخابی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کی قیادت میں گزشتہ برسوں کے دوران غزہ میں برپا کی جانے والی جنگ، مقبوضہ علاقوں میں بے لگام تشدد اور اندرون ملک عرب اقلیت کے خلاف امتیازی قوانین کے باعث فلسطینی ووٹرز میں شدید بے چینی تھی، جس کے نتیجے میں انہوں نے اس بار بھرپور شرکت کر کے انتخابی توازن بگاڑ دیا ہے۔ حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان ابھی باقی ہے اور ہزاروں خصوصی ووٹوں کی گنتی کے بعد نشستوں میں معمولی تبدیلی ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ خدوخال نے واضح کر دیا ہے کہ ملک کو سنگین سیاسی تعطل کا سامنا ہے اور عرب قیادت کے بغیر کوئی بھی فریق پائیدار راستہ تلاش کرنے سے قاصر ہے۔

شیئر کریں۔