انڈین ریلوے نے ٹرینوں کے اندر آتشزدگی اور شارٹ سرکٹ کے واقعات کی روک تھام کے لیے رات کے اوقات میں موبائل چارجنگ پوائنٹس بند رکھنے کی ہدایت پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلوے بورڈ کی جانب سے تمام زونل ریلوے انتظامیہ کو جاری کردہ احکامات کے مطابق ٹرین کے ڈبوں میں رات گیارہ بجے سے صبح پانچ بجے تک تمام موبائل چارجنگ ساکٹس مکمل طور پر بند رہیں گے۔ اس دوران عملے کو کسی بھی نوعیت کی لاپروائی یا رعایت نہ برتنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر ممکن طور پر یقینی بنایا جا سکے۔
بورڈ کا یہ سخت اقدام جنوب مشرقی ریلوے میں سفر کے دوران ایک مسافر کے پاور بینک میں دھماکے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت ٹرین کے کوچ میں چارجنگ پوائنٹس کا پاور سپلائی آن تھا جس کی وجہ سے ڈیوائس ضرورت سے زیادہ گرم ہو کر پھٹ گئی۔ اس سنسنی خیز واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریلوے حکام نے واضح کیا کہ الیکٹرانک آلات کے اوور ہیٹ ہونے، شارٹ سرکٹ اور غیر معیاری پاور بینکس کے استعمال سے ٹرین میں لگی معمولی آگ بھی ایک بھیانک المیے میں بدل سکتی ہے، لہٰذا رات کے وقت جب بیشتر مسافر سو رہے ہوتے ہیں، یہ سہولت بند رکھنا ناگزیر ہے۔
حفاظتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے آن بورڈ عملے اور کوچ اٹینڈنٹس کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ مقررہ وقت پر مین سوئچ بورڈ سے چارجنگ لائن بند کریں۔ اس کے علاوہ ریلوے کے سینیئر افسران اور معائنہ کار دستوں کو چلتی ٹرینوں میں اچانک چھاپے مارنے اور چیکنگ کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ جس کسی ٹرین یا کوچ میں غفلت پائی گئی تو ڈیوٹی پر مامور تکنیکی اور نگران عملے کے خلاف براہ راست محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
ٹرین کے ڈبوں میں رات کے وقت چارجنگ ساکٹس بند رکھنے کا یہ قاعدہ نیا نہیں ہے۔ ریلوے بورڈ نے پہلی مرتبہ 19 جون 2014 کو آتشزدگی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے یہ رہنما خطوط وضع کیے تھے، جس کے بعد مارچ 2021 میں بھی ان قواعد پر دوبارہ سختی سے عمل کرانے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا۔ تاہم زمینی سطح پر بعض ٹرینوں میں عملے کی سستی اور مسافروں کے دباؤ کے سبب اس پر مستقل مزاجی سے عمل نہیں ہو پا رہا تھا، جسے حالیہ پاور بینک حادثے نے دوبارہ متحرک کر دیا ہے۔




