او آئی سی کی جموں و کشمیر قرارداد کو بھارت نے کیا مسترد، وزارت خارجہ کا سخت ردعمل

بھارت نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے جموں و کشمیر کی صورتحال پر منظور کی گئی تازہ ترین قرارداد کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ نئی دہلی میں وزارت خارجہ نے پیر کے روز جاری کردہ ایک سخت بیان میں واضح کیا کہ 57 رکنی اس بین الاقوامی تنظیم کو بھارت کے خالصتاً داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار حاصل نہیں ہے۔ عراق کے دارالحکومت بغداد میں منعقدہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے دوران یہ قرارداد منظور کی گئی تھی، جس پر بھارت نے باضابطہ طور پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں بھارت سے متعلق کیے گئے تمام حوالے حقائق کے منافی، گمراہ کن اور تعصب پر مبنی ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کا موقف ہے کہ تنظیم کو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت استعمال ہونے دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تنظیم کی بین الاقوامی ساکھ اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ وزارت نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فورمز کا منفی بیانیے کے لیے استعمال روکا جانا چاہیے۔

نئی دہلی نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصے ہیں اور کسی بھی قسم کا سیاسی پروپیگنڈا زمینی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارتی بیان میں مزید کہا گیا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کے برسوں میں جموں و کشمیر نے نمایاں معاشی ترقی دیکھی ہے، جس کے براہ راست فوائد بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور رابطوں کے نظام کی بہتری کی صورت میں خطے کے عوام تک پہنچ رہے ہیں۔

اس کے برعکس وزارت خارجہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہاں پرامن مظاہرین، بشمول خواتین اور بچوں، کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ میڈیا بلیک آؤٹ کے باوجود وہاں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالیاں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر سے متعلق بنیادی مسئلہ محض یہ ہے کہ اس خطے کے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرایا جائے اور سرحد پار سے جاری دراندازی اور دہشت گردی کی معاونت کو مکمل طور پر روکا جائے۔

اسلامو فوبیا اور اقلیتوں سے متعلق قرارداد میں شامل دیگر نکات پر ردعمل دیتے ہوئے نئی دہلی نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایسے بیانیے کا مقصد اپنے اندرونی مسائل، فرقہ وارانہ تشدد اور اقلیتوں پر ہونے والے مبینہ مظالم سے بین الاقوامی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔ بھارتی اعلامیے میں او آئی سی کے رکن ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ تنظیمی ڈھانچے کو متوازن اور تعمیری رخ دینے پر توجہ مرکوز کریں۔

شیئر کریں۔