بھارتیہ جنتا پارٹی نے مدھیہ پردیش میں ہونے والے راجیہ سبھا کے ضمنی انتخاب کے لیے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ بی جے پی کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے ان کے نام کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ان کی ایوان بالا میں واپسی اور مرکزی کابینہ میں برقرار رہنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق اس نشست پر بارہ نومبر کو پولنگ ہوگی، جبکہ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ دو نومبر مقرر کی گئی ہے۔
مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی یہ نشست سابق مرکزی وزیر ایل مروگن کے استعفیٰ دینے کے سبب خالی ہوئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے اس خالی نشست کو پر کرنے کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت نامزدگیوں کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ضرورت پڑنے پر ووٹنگ کرائی جائے گی۔ مدھیہ پردیش کی ریاستی اسمبلی میں پارٹیوں کے عددی تناسب کو دیکھتے ہوئے ہردیپ سنگھ پوری کی کامیابی تقریباً یقینی بتائی جا رہی ہے، جہاں قانون ساز اسمبلی کے اراکین ایوان بالا کے نمائندے کا انتخاب کریں گے۔
ہردیپ سنگھ پوری انڈین فارن سروس کے سینئر افسر رہ چکے ہیں اور اقوام متحدہ سمیت کئی اہم سفارتی مشنز پر ملک کی نمائندگی کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ جنوری 2014 میں باقاعدہ طور پر بی جے پی میں شامل ہونے والے ہردیپ پوری مودی حکومت کی کابینہ میں پیٹرولیم و قدرتی گیس اور شہری امور جیسی کلیدی وزارتوں کی ذمہ داری سنبھالتے رہے ہیں۔ وہ حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر پالیسی ساز موقف کی وضاحت میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔
ایوان بالا میں ہردیپ سنگھ پوری کی موجودہ مدت کار پچیس نومبر کو مکمل ہو رہی تھی۔ پارلیمانی قوانین کے تحت کسی بھی غیر منتخب رکن کے لیے چھ ماہ کے اندر پارلیمنٹ کے کسی ایک ایوان کی رکنیت حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے، اس لحاظ سے مدھیہ پردیش سے ان کی امیدواری نے ان کے وزارتی عہدے کے تسلسل سے جڑے دستوری تقاضے کو وقت سے پہلے مکمل کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے تنظیمی سطح پر تجربہ کار چہروں کو ایوان بالا میں لانے کی اپنی حکمت عملی کے تحت یہ فیصلہ لیا ہے۔
امیدوار نامزد ہونے کے بعد اب ہردیپ سنگھ پوری جلد بھوپال جا کر اپنے کاغذات نامزدگی داخل کریں گے، جہاں وزیر اعلیٰ سمیت ریاستی قیادت ان کے ہمراہ ہوگی۔




