کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے غیر ملکی عطیات کے ضابطہ قانون یعنی ایف سی آر اے سے متعلق ترمیمی قواعد 2026 پر شدید ترین اعتراض درج کرایا ہے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کانگریس رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ان نئے قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت کا ایک نیا اور شفاف عمل شروع کرے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ سخت ضوابط ملک کے شہری سماجی اداروں کی خودمختاری اور ان کے روزمرہ کے فلاحی کاموں کو بری طرح مفلوج کر دیں گے۔
مرکزی وزارت داخلہ نے حال ہی میں ایف سی آر اے 2010 کے تحت غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے اور ان کے استعمال کے حوالے سے نئے قواعد جاری کیے ہیں، جن میں خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئے گزٹ نوٹیفکیشن کے تحت اگر کوئی غیر سرکاری تنظیم مقررہ حد سے زیادہ رقم انتظامی امور پر خرچ کرتی ہے، تو اس پر ایک لاکھ روپے یا زائد خرچ کی گئی رقم کا پانچ فیصد جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اسی طرح پہلے سے طے شدہ جغرافیائی حدود سے باہر کام کرنے یا معمولی انتظامی غلطی پر فنڈ کا تیس فیصد تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
کے سی وینوگوپال نے اپنے خط میں مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ یہ ترمیمی قواعد دراصل ملک کے سماجی اور فلاحی اداروں پر ایک منظم حملہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد نظم و ضبط برقرار رکھنا نہیں بلکہ ان اداروں کو شدید مالی اور انتظامی دباؤ میں لا کر ان کا گلا گھونٹنا ہے، جبکہ یہی ادارے زمینی سطح پر غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے سب سے اہم خدمات انجام دیتے ہیں۔ مختلف ریاستوں یا سرگرمیوں کے لیے الگ الگ فیس مقرر کرنے کو انہوں نے انتظامی ٹول ٹیکس قرار دیا ہے جس سے تنظیموں کا دائرہ کار سکڑ جائے گا۔
کانگریس رہنما نے بالخصوص اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سخت ترین مالی جرمانے چھوٹی اور مقامی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کو تباہ کر دیں گے۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ جو ادارے معاشرے کے محروم طبقات، اقلیتی تعلیمی مراکز اور فلاحی اسکیموں کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کے پاس اتنے بڑے قانونی اور مالی وسائل نہیں ہوتے کہ وہ ان پیچیدہ ضوابط اور بھاری جرمانوں کا بوجھ برداشت کر سکیں، جس کی وجہ سے بالآخر غریب عوام ہی متاثر ہوں گے۔
انہوں نے حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ پارلیمانی بحث سے گریز کرتے ہوئے صرف قواعد میں تبدیلی کے ذریعے اتنے بڑے فیصلے نافذ کرنا جمہوری اصولوں کے یکسر منافی ہے۔ کے سی وینوگوپال نے زور دے کر کہا کہ ایک صحت مند اور مضبوط جمہوریت کے اندر آزاد شہری سماجی اداروں کا وجود برقرار رہنا انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ انتقامی کارروائیوں اور یکطرفہ سخت قوانین کے نفاذ کے بجائے تعاون، مکالمے اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرے تاکہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔




