ووٹر لسٹوں کی خصوصی جانچ میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کا نام بتانے سے الیکشن کمیشن کا انکار

نئی دہلی میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران غلطیوں کی نشاندہی اور ناموں کی جانچ کے لیے مبینہ طور پر استعمال کیے جانے والے سافٹ ویئر اور اس کے ورژن کا نام ظاہر کرنے سے باقاعدہ انکار کر دیا ہے۔ ایک معروف قومی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق، حقِ اطلاعات قانون کے تحت دائر کی گئی ایک اہم درخواست کے جواب میں انتخابی کمیشن نے اس معاملے کو تجارتی اعتماد، تجارتی راز اور دانشورانہ ملکیت کی قانونی چھوٹ کے دائرے میں قرار دے کر تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں میں کسی ووٹر کا نام شامل کرنے یا خارج کرنے کا حتمی اختیار متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسر کے پاس ہی ہوتا ہے جو شواہد اور ریکارڈز کی بنیاد پر قانونی فیصلے کرتا ہے۔

معروف سماجی کارکن ایم اے مجیب ایوب کی جانب سے دائر آر ٹی آئی درخواست میں یہ بنیادی سوالات اٹھائے گئے تھے کہ کیا انتخابی فہرستوں کی تصدیق، درستگی یا حذف کے عمل میں کوئی خودکار پلیٹ فارم یا مصنوعی ذہانت استعمال کی جا رہی ہے؟ نیز حقیقی اور مستند رائے دہندگان کے نام غلطی سے خارج ہونے سے بچانے کے لیے کیا حفاظتی تدابیر اختیار کی گئی ہیں؟ الیکشن کمیشن نے ان سوالات کے جواب میں کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے مانگی گئی کچھ تفصیلات وضاحت کے زمرے میں آتی ہیں جو قانونِ معلومات کے تحت انفارمیشن کی تعریف پر پورا نہیں اترتیں۔ کمیشن نے اس بات کا انکشاف کرنے سے بھی انکار کیا کہ الگورتھم کے ذریعے مشتبہ قرار دیے گئے ریکارڈز کا جائزہ کون سا عملہ لیتا ہے، اور اس انکار کے لیے ایسی قانونی شق کا سہارا لیا گیا جو کسی شخص کی جان، جسمانی سلامتی یا خفیہ قانونی ذرائع کے تحفظ سے متعلق ہے۔

اس ادارہ جاتی رازداری کے بعد ملک کے سیاسی حلقوں اور جمہوری حقوق کے علمبرداروں میں سخت بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے الیکشن کمیشن کے آن لائن پورٹل ای سی آئی نیٹ کی کارکردگی اور ڈیٹا پروسیسنگ کے نظام پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس قائدین کا مؤقف ہے کہ اگر انتخابی فہرستوں کی جانچ میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ یا پیشگی تجزئیاتی ٹولز کا استعمال ہو رہا ہے تو اس کے الگورتھم کے معیارات کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ غلطی یا جانبدارانہ نتائج کا تدارک ممکن ہو سکے۔

اس معاملے کا پس منظر اس وقت اور زیادہ حساس ہو جاتا ہے جب میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اپنے اعلیٰ ارکان یعنی الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بھی آئی ٹی ڈویژن کے طریقہ کار اور خصوصی نظرثانی مہم کے بعض فیصلوں پر اندرونی طور پر چودہ مرتبہ رسمی اعتراضات اٹھائے تھے۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے اگرچہ اس نظرثانی عمل کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا تھا، تاہم عدالت نے واضح طور پر یہ یاددہانی کرائی تھی کہ اس انتظامی عمل کی آڑ میں الیکشن کمیشن کو کسی شہری کی شہریت طے کرنے کا آئینی اختیار ہرگز حاصل نہیں ہے۔

شیئر کریں۔