ہندوستان میں انتخابی شفافیت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے حوالے سے ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں نیا نام شامل کرانے، شہریت حاصل کرنے یا کٹے ہوئے نام کو دوبارہ بحال کرانے کے لیے استعمال ہونے والے آن لائن فارم 6 میں ایک نئے خانے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس نئے سیکشن میں اب درخواست گزاروں سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا وہ یا ان کے والدین، دادا دادی یا نانا نانی گزشتہ ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ یعنی خصوصی انتخابی جائزہ مہم (ایس آئی آر) کا حصہ تھے یا نہیں۔ یہ نئی تبدیلی الیکشن کمیشن کے آن لائن پورٹل پر خاموشی سے نافذ کر دی گئی ہے، جس نے سیاسی حلقوں اور سماجی کارکنوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اس اقدام سے لاکھوں جائز شہریوں کے انتخابی عمل سے باہر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
تکنیکی طور پر اس نئے خانے کو فارم پر لازمی قرار دینے کا نشان نہیں لگایا گیا ہے، لیکن آن لائن پورٹل کی ساخت ایسی بنائی گئی ہے کہ اس خانے کو پر کیے بغیر درخواست گزار اپنا فارم جمع ہی نہیں کر سکتے۔ فارم میں شہریوں کو تین متبادل دیے گئے ہیں جن میں پہلا یہ کہ ان کا نام گزشتہ جائزہ مہم کی لسٹ میں موجود تھا، دوسرا یہ کہ ان کے والدین یا دادا دادی کا نام لسٹ میں تھا، اور تیسرا یہ کہ ان میں سے کسی کا نام بھی لسٹ میں موجود نہیں تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جو لوگ پہلے دو متبادل کا انتخاب کرتے ہیں، ان کے لیے پرانی ووٹر لسٹ کا اسمبلی حلقہ، بوتھ نمبر اور سیریل نمبر فراہم کرنا لازمی کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر کسی کے پاس یہ پرانی تفصیلات موجود نہ ہوں، تو وہ آن لائن درخواست دینے سے محروم ہو جائے گا، جس کا سب سے زیادہ اثر غریب، پسماندہ اور اقلیتی طبقات پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔
قانونی ماہرین نے اس تبدیلی کی آئینی حیثیت پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 28 کے تحت انتخابی فارموں یا قواعد و ضوابط میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کا اختیار صرف اور صرف مرکزی حکومت کے پاس ہے اور الیکشن کمیشن خود سے ان فارموں میں کوئی قانونی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ڈاؤن لوڈ کیے جانے والے روایتی کاغذی فارم میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، لیکن اپنے آن لائن پورٹل پر اس شرط کو لاگو کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار قانون کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور اس کے ذریعے لاکھوں شہریوں کو دانستہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
یہ پورا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سولہ ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی تیسری نظرِ ثانی کا عمل جاری ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جب سے یہ خصوصی مہم شروع ہوئی ہے، تب سے اب تک محض دس ریاستوں اور تین خطوں میں ساڑھے پانچ کروڑ سے زائد ووٹرز کے نام لسٹوں سے خارج کیے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل مغربی بنگال اور بہار جیسی ریاستوں میں اس مہم کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آ چکے ہیں، جہاں بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل سینتالیس لاکھ ووٹرز کو فہرست سے باہر کر دیا گیا تھا، جبکہ مغربی بنگال میں نوے لاکھ سے زائد ووٹرز کے نام کاٹ دیے گئے جو کل انتخابی آبادی کا تقریباً بارہ فیصد بنتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ووٹر لسٹوں سے اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کا اخراج اور اب آن لائن فارموں میں پیچیدہ شرائط کا اضافہ براہِ راست ملک کے جمہوری ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے۔ مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی حلقوں میں بی جے پی کی جیت کا مارجن ان ناموں سے بہت کم تھا جنہیں انتخابی نظرِ ثانی کے نام پر لسٹ سے خارج کیا گیا تھا۔ اس صورتحال میں مسلم کمیونٹی اور دیگر کمزور طبقات میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ دستاویزی پیچیدگیوں کی وجہ سے اکثر انہی طبقات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام ہر شہری کے حقِ رائے دہی کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ ایسے ضوابط تیار کرنا جن سے عام ووٹر کے لیے اپنا نام درج کرانا ایک مشکل ترین عمل بن جائے۔




