سرینگر مسافر بس پرحملہ، دو ملزمان گرفتار

ہریانہ کے ضلع کروکشیتر کے قریب دہلی سے سرینگر جا رہی مسافر بس پر اینٹوں اور پتھروں سے حملہ کرنے کے الزام میں پولیس نے دو مقامی نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پیش آنے والے اس پرتشدد واقعے میں بس میں سوار ایک بزرگ کشمیری مسافر زخمی ہو گئے جبکہ گاڑی کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ہریانہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اتوار کی شام دونوں نامزد ملزمان موہت اور ساون کو حراست میں لے کر ان کی گاڑی ضبط کر لی ہے۔

پولیس کے مطابق، کرنال ڈسٹرکٹ پولیس کنٹرول روم کو بھوتانہ تھانے کی حدود میں واقع ایک ہوٹل کے قریب تنازع کی اطلاع ملی تھی۔ ڈی ایس پی راجیو کمار نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ واقعہ ایک ڈھابے پر جموں و کشمیر کے رجسٹریشن نمبر والی مسافر بس اور ایک کار میں سوار مقامی افراد کے درمیان گاڑی کھڑی کرنے کے تنازع کے بعد پیش آیا۔ جھگڑے کے دوران ملزمان نے مبینہ طور پر اینٹوں سے بس پر حملہ کر کے شیشے توڑ دیے، جس سے اندر بیٹھے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور ایک ضعیف العمر مسافر زخمی ہو گئے۔

بس ڈرائیور وقار کے مطابق، کار سوار افراد نے جموں و کشمیر کی گاڑی کو وہاں پارک کرنے سے روکا اور علاقائی تعصب پر مبنی رویہ اختیار کیا۔ ڈرائیور نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں نے مسافروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، گاڑی کو نذرِ آتش کرنے کی باتیں کیں اور خوف زدہ کرنے کی کوشش کی۔ واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمی مسافر اور دیگر افراد کو باقاعدہ قانونی شکایت درج کرانے کی پیشکش کی، تاہم وہ ذہنی صدمے اور طویل سفر کے باعث مزید قانونی کارروائی میں الجھے بغیر سرینگر کی جانب روانہ ہو گئے۔

مسافروں کی روانگی کے بعد واقعے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مقامی ڈھابہ مالک نے پولیس کو باضابطہ تحریری شکایت پیش کی، جس کی بنیاد پر پولیس نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کی۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر پولیس نے دونوں ملزمان کو دھر دبوچا اور حملے میں استعمال کی گئی کار بھی برآمد کر لی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

بین الریاستی شاہراہوں پر سفر کرنے والی اقلیتی اور کشمیری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی گاڑیوں کے تحفظ پر عوامی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے نگراں اور شہری حقوق کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ قومی شاہراہوں پر تعصب اور تشدد کے ایسے واقعات امن و امان کے ساتھ ساتھ بنیادی شہری آزادیوں کے لیے بھی شدید خطرہ ہیں۔ اس مقدمے میں پولیس کی جانب سے ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ضابطے کے تحت قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

شیئر کریں۔