دہلی فسادات 2020: شرجیل امام کو کزن کی شادی میں شرکت کے لیے عدالت سے سات روزہ عبوری ضمانت

دہلی کی کڑکرڈوما عدالت نے شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے دوران پیش آنے والے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں زیر حراست طالب علم اور محقق شرجیل امام کو اپنے دو کزن بھائیوں کی شادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے سات روز کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے 50 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی ایک ضمانت داخل کرنے سمیت متعدد سخت پابندیوں کے ساتھ یہ راحت فراہم کی۔ عدالتی حکم کے تحت شرجیل امام کو 4 اکتوبر سے 10 اکتوبر تک عبوری رہائی ملے گی، جس کے بعد انہیں 10 اکتوبر کی شام جیل حکام کے سامنے باضابطہ خودسپردگی کرنی ہوگی۔

شرجیل امام کی جانب سے ان کے وکلا احمد ابراہیم اور عائشہ زیدی نے دو ہفتوں یعنی 30 ستمبر سے 13 اکتوبر تک کی عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ان کے حقیقی چچا زاد بھائیوں دانش امام اور فہد امام کی شادی کی تقاریب دہلی اور بہار کے ضلع ساسارام میں طے ہیں۔ دہلی پولیس نے اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں شادی کی تصدیق تو کی، لیکن اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے ضمانت کی سخت مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ملزم کی موجودگی کسی مالی یا انتظامی مجبوری کے تحت ضروری نہیں۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد واضح کیا کہ یہ عبوری ضمانت کی دوسری درخواست ہے اور قریبی خاندانی تقریب میں شرکت کی بنیاد پر شرائط کے ساتھ اجازت دی جا رہی ہے۔

عدالت نے شرجیل امام کی عبوری رہائی پر سخت نگرانی اور حدود عائد کی ہیں۔ حکم نامے کے مطابق شرجیل امام ضمانت کے دوران سوشل میڈیا کا کوئی پلیٹ فارم استعمال نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی وہ مقدمے سے جڑے کسی بھی گواہ، تفتیشی عمل یا تفتیش کار سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ انہیں خاندان کے قریبی افراد کے سوا کسی بھی بیرونی شخص، تنظیمی نمائندے یا میڈیا سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔

شرجیل امام طویل عرصے سے غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ یعنی یو اے پی اے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ استغاثہ نے ان پر شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کے خلاف ملک گیر جمہوری تحریک کے دوران اشتعال انگیزی اور فسادات کی پیشگی منصوبہ بندی کا الزام عائد کر رکھا ہے۔ فروری 2020 میں ہونے والے اس پرتشدد تصادم میں 53 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حقوقِ انسانی کی ملکی اور بین الاقوامی تنظیمیں طویل عرصے سے بغیر ٹرائل نوجوان طلبا اور کارکنان کی مسلسل حراست پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ شرجیل امام کی مستقل ضمانت کی پٹیشن اس وقت دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

عدالت کی جانب سے دی گئی یہ مختصر راحت خاندانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یو اے پی اے جیسے سخت قوانین میں زیر سماعت قیدیوں کے بنیادی انسانی و سماجی روابط کے احترام کو عدالتوں نے وقتاً فوقتاً تسلیم کیا ہے۔ اب نظریں دہلی ہائی کورٹ میں مستقل ضمانت سے متعلق جاری قانونی چارہ جوئی پر لگی ہیں، جہاں ان کے بنیادی حقوق اور فرد جرم کے شواہد پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔

شیئر کریں۔