نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے خلاف مجوزہ مظاہرے سے قبل دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر سیکوریٹی اقدامات اور انتظامی کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ دہلی پولیس کی جانب سے مظاہرے کی اجازت نہ دیے جانے کے بعد شہر بھر میں سخت ناکہ بندی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ مختلف مقامات سے اہم رہنماؤں، طلبہ اور سیاسی کارکنوں کو حراست میں لینے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اہم قائدین ابھیجیت دِپکے، سورَو داس اور آشوتوش رنکا کو دہلی ہوائی اڈے پر اترتے ہی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پرامن جمہوری احتجاج کے آئینی حق کو سلب کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے اور رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کو بھی مظاہرے میں شرکت سے قبل گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں، جن کی باضابطہ تصدیق اور قانونی کارروائی کی تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دہلی کے سرحدی علاقوں، ایئرپورٹ اور ریلوے ٹرمینلز پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ سی جے پی کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے ملک بھر کی مختلف ریاستوں سے تقریباً دس ہزار افراد کو تحویل میں لیا گیا ہے، تاہم سرکاری طور پر اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق دارالحکومت کی حدود میں امن و امان قائم رکھنے کے پیشِ نظر تقریباً ایک ہزار افراد کو احتیاطی تدابیر کے تحت روکا گیا ہے۔ پونے سے دہلی کے لیے روانہ ہونے والے چودہ طلبہ کو مدھیہ پردیش کے اٹارسی اسٹیشن پر گوا ایکسپریس سے اتارے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے حکام کو طلبہ کی بحفاظت واپسی اور عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
انتخابی فہرستوں کی نظرِ ثانی پر اٹھنے والے یہ سوالات محض انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ ووٹروں کے بنیادی حقوق اور انتخابی شفافیت سے وابستہ ہیں۔ مظاہرین اور اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ موجودہ طریقہ کار سے جائز اور محروم طبقات کے ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اسے ایک معمول کی جانچ اور شفاف انتخابی عمل کا حصہ قرار دیتا رہا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں اور عام آدمی پارٹی سمیت کئی سیاسی حلقوں نے انتخابی عمل کی منصفانہ جانچ کے اس مطالبے کی تائید کی ہے۔
احتجاجی پیش رفت کے نتیجے میں نئی دہلی کے مرکزی علاقوں میں عام شہریوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جنپتھ اور کرتویہ پتھ کے اطراف انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں جبکہ کئی میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستے بند رکھے گئے ہیں۔ مسافروں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انتظامیہ اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تمام داخلی راستوں پر سخت جانچ جاری ہے اور حالات پر قابو پانے کے لیے دفعہ کے تحت احکامات نافذ ہیں۔ آنے والے دنوں میں ہائی کورٹ کی کارروائی اور حراست میں لیے گئے افراد کے قانونی مراحل کے بعد ہی اس سیاسی و قانونی کشمکش کا اگلا رخ واضح ہو سکے گا۔



