نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش سے متعلق کیس میں معروف سرگرم کارکنان عمر خالد اور شرجیل امام کی تازہ ضمانت عرضیاں خارج کر دیں۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد دونوں رہنماؤں کو فی الحال جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔
جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت جوڈیشل ڈسپلن (عدالتی نظم و ضبط) کی پابند ہے، اس لیے وہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری 2026 کے فیصلے میں عائد کی گئی شرائط میں کوئی تبدیلی یا ترمیم نہیں کر سکتی۔ یاد رہے کہ امسال جنوری میں سپریم کورٹ نے اس معاملے کے پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کی راحت کی درخواست رد کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ دونوں ملزمان محفوظ گواہوں کے بیانات کے اندراج کے بعد یا حکم کی تاریخ سے ایک سال مکمل ہونے پر دوبارہ ضمانت کی اپیل کر سکتے ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے ٹرائل کورٹ کے 4 جولائی کے اس حکم کو برقرار رکھا ہے جس میں ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔ یہ تیسرا موقع ہے جب ہائی کورٹ نے عمر خالد کی ضمانت عرضی کو رد کیا ہے۔
دورانِ سماعت ملزمان کے وکلاء نے موقف اختیار کیا تھا کہ مقدمے میں غیر معمولی تاخیر اور دیگر شریک ملزمان کو ملی راحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بھی ضمانت دی جائے، تاہم دہلی پولیس کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی۔ پولیس نے دونوں کو اس سازش کے "ماسٹر مائنڈ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا جنوری کا حکم ان پر مکمل طور پر لاگو ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی جانب سے درج ایف آئی آر نمبر 59/2020 سے متعلق ہے، جس میں عمر خالد اور شرجیل امام پر سخت ترین قانون ‘یو اے پی اے’ (UAPA) کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ فروری 2020 میں ہونے والے ان فسادات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ ملزمان کے جرم یا بے گناہی کا تعین نہیں کرتا اور اصل مقدمہ ٹرائل کورٹ میں زیر التواء ہے۔




