وزیراعظم مودی، منموہن سنگھ کے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات عام کرنے کا حکم ہائی کورٹ نے کیا منسوخ

دہلی ہائی کورٹ نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں انڈین ایئر فورس کو موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے غیر ملکی اسفار سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ محض عوامی فنڈز خرچ ہونے کی بنیاد پر ایسی معلومات کو عام کرنے کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا جس سے ملکی قیادت کے حفاظتی انتظامات اور سیکیورٹی پر کوئی آنچ آنے کا خدشہ ہو۔

یہ تنازعہ سابق بحری افسر اور حقِ معلومات (آر ٹی آئی) کے سرگرم کارکن لوکیش کے بترا کی ایک درخواست کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے اپریل ۲۰۱۳ سے جون ۲۰۱۸ کے درمیان بھارتی فضائیہ کے طیاروں پر کیے گئے وزرائے اعظم کے سرکاری دوروں کی تمام تفاصیل مانگی تھیں۔ طلب کی گئی معلومات میں استعمال ہونے والے جہاز، پرواز کے عملے، ہمراہ جانے والے وفود اور وزیر اعظم کی حفاظت پر مامور کمانڈوز و سیکیورٹی اہلکاروں کے نام تک شامل تھے، جس کے خلاف انڈین ایئر فورس نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

سنہ ۲۰۲۰ سے زیر سماعت اس مقدمے میں فضائیہ کا موقف رہا کہ وزیر اعظم کی سیکیورٹی کے طریقہ کار سے جڑے اعداد و شمار انتہائی حساس نوعیت کے ہیں جن کا افشا ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت میں دلیل دی کہ چونکہ ان اسفار پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ ہوا ہے اس لیے وسیع تر عوامی مفاد کے تحت شفافیت برقرار رکھی جانی چاہیے، تاہم عدالت نے ایئر فورس کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے سی آئی سی کی ہدایت کو یکسر مسترد کر دیا۔

جمہوری نظام میں سرکاری اخراجات پر عوامی نگرانی کا حق تسلیم شدہ اصول مانا جاتا ہے، لیکن ملکی سلامتی اور وی آئی پی پروٹوکول کے درمیان حد فاصل کھینچنا عدلیہ کے لیے ہمیشہ سے ایک پیچیدہ عمل رہا ہے۔ جمہوری اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ جہاں شہریوں کے ٹیکس کے استعمال میں مالی احتساب ضروری ہے، وہیں اہم ترین آئینی عہدوں کے تحفظ اور دفاعی رازوں کو قانونی استثنیٰ حاصل ہونا بھی ایک طے شدہ آئینی ضرورت ہے۔

دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے آر ٹی آئی کے تحت سیکیورٹی اور انٹیلی جنس سے جڑے ڈیٹا تک رسائی کے دائرہ کار کو واضح کر دیا ہے۔ اس حکم کے بعد اب تحقیقاتی ایجنسیوں اور ایئر فورس جیسے دفاعی شعبوں پر وزرائے اعظم کی سفری نقل و حرکت اور حفاظتی ڈھانچے سے جڑی باریک تفصیلات ظاہر کرنے کا دباؤ ختم ہو گیا ہے، جس سے آئندہ بھی سیکیورٹی معاملات میں اداروں کے استثنیٰ کو قانونی تقویت حاصل رہے گی۔

شیئر کریں۔