گرمی کے موسم میں شدت آتے ہی قومی راجدھانی میں آتشزدگی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ دہلی میں تقریباً ہر روز کہیں نہ کہیں سے آگ لگنے کی خبرآرہی ہے جس میں کافی جانی ومالی نقصان بھی ہورہا ہے۔ تازہ واردات مشرقی دہلی کے شاہدرہ علاقہ میں ہوئی ہے۔ یہاں کے وویک وہار واقع ایک 4 منزلہ عمارت میں خوفناک آگ لگ گئی جس میں کم از کم 9 افراد کی موت ہوگئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب میں دہلی کے وویک وہار کے 6 فلیٹوں میں اچانک آگ لگ گئی۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے تھے جبکہ پورا علاقہ دھواں دھواں نظر آرہا تھا۔ واردات کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ فائر ڈیپارٹمنٹ کو صبح 3:47 بجے آگ لگنے کی کال موصول ہوئی جس کے بعد فائر انجن جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ آگ لگنے کے بعد اس میں کئی لوگ پھنس گئے جنہیں ریسکیو ٹیموں نے بڑی مشقت کے بعد باہر نکالا
آتشزدگی کی واردات اتنی بھیانک تھی کہ اس وقت بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس واردات میں 9 لوگوں کی جھلسنے سے موت ہوگئی جبکہ 16 دیگر افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وویک وہار پولیس اسٹیشن کو آگ لگنے سے متعلق پی سی آر کال موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او وویک وہار اور اے سی پی وویک وہار کے ساتھ پولیس اہلکار فوری جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔
آگ دوسری، تیسری اور چوتھی منزل پر واقع فلیٹوں میں لگی تھی۔ ریسکیو اور آگ بجھانے کے دوران عمارت سے 10-15 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ان میں سے 2 افراد کو معمولی چوٹیں آئی ہیں جنہیں علاج کے لیے گرو تیگ بہادر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ موقعہ واردات پر ڈی ڈی ایم اے کے اہلکار، ٹریفک حکام اور مقامی پولیس کے ساتھ 12 فائر انجن جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آتشزدگی میں 9 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جائے وقوعہ پر مزید تفتیش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
مقامی کونسلر پنکج لوتھرا کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی میں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گیا۔ میں نے آگ کی زد میں آنے والی اوپری منزلوں دیکھا۔ دوسری منزل کے عقبی حصے میں 5 لاشیں ملی ہیں، وہیں کچھ دوری پر ایک اور لاش ملی ہے اور 3 لاشیں اوپر کی منزل سے ملی ہیں۔ فی الحال متوفیوں کی شناخت ممکن نہیں ہے۔ کونسلر نے بتایا کہ ابھی تفتیش جاری ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ نکے بعد ہی متوفیوں کی جنس کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ اس واردات میں اب تک 9 افراد کی موت کی تصدیق ہوچکی ۔ ہم اب بھی مزید لوگوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ لوگ قیاس کر رہے ہیں کہ آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے تاہم ابھی تک سرکاری طور پر واقعے کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
علاقائی ممبر اسمبلی سنجے گوئل نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے… یہ واقعہ وویک وہار کے بلاک بی میں واقع ایک عمارت میں پیش آیا۔ اس عمارت میں 8 فلیٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شارٹ سرکٹ سے صبح تقریباً 3:45 بجے آگ لگ گئی اور عمارت کی چاروں منزلوں تک پھیل گئی۔ کچھ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کیونکہ وہ تالہ نہیں کھول پائے اس لیے ان کی جان چلی گئی۔ لاشوں کو شناخت کے لیے جی ٹی بی اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ کچھ لاشیں ڈھانچے میں تبدیل ہوچکی ہیں جن کی شناخت ڈی این اے سیمپلنگ کے ذریعے کی جائے گی۔
پولیس نے نے شناخت کے لیے لاشوں کی تصاویر لے لی ہیں۔ اس واردات کے پیچھے اصل وجہ شارٹ سرکٹ بتایا جارہا ہے حالانکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے یہ اے سی میں دھماکے کی وجہ سے ہوا ہے۔ پولیس نے پورے معاملے کی جانچ شروع کردی ہے۔


