جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر کے 3 مقاصد بتائے تھے۔ ان میں دراندازوں کی شناخت کرنا، ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانا اور انہیں ملک سے باہر نکالنا شامل تھا۔ کانگریس لیڈر کا سوال ہے کہ اگر یہی اس مہم کا بنیادی مقصد تھا تو اب تک سامنے آئے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے دعووں اور دستیاب اعداد و شمار میں واضح فرق ہے۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ باقی 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ایسا کوئی اعداد و شمار سامنے نہیں آیا، کیونکہ الیکشن کمیشن نے اس تعلق سے معلومات یکجا کرنے کی ہدایات ہی نہیں دی تھیں۔ واضح ہے کہ وزیر داخلہ جھوٹ بول رہے تھے۔
راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے کرناٹک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ ووٹر لسٹ سے تقریباً 99.7 لاکھ نام ہٹائے گئے۔ 716 لوگوں کی شناخت غیر ملکی شہریوں کے طور پر ہوئی ہے۔ ان 716 لوگوں میں 545 نیپال کے شہری ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر نام ہٹائے جانے کے باوجود غیر ملکی شہریوں کی تعداد بہت کم ہے۔ پارٹی نے اسی بنیاد پر ایس آئی آر کی ضرورت، اس کے طریقے اور اس کے اصل مقصد پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’ایس آئی آر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی جوڑی کی تیار کردہ ایک سازش تھی، جسے چیف الیکشن کمشنر نے ای سی آئی نیٹ سمیت مختلف ذرائع سے عملی جامہ پہنایا۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں انہوں نے 3 اہم مطالبے پیش کیے پہلا، گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔ دوسرا، ایس آئی آر کو معطل کیا جانا چاہیے۔ تیسرا، ای سی آئی نیٹ میں بڑے پیمانے پر اصلاح کی جانی چاہیے۔




