دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نعرے بازی کے الزام میں کاکروچ جنتا پارٹی کے دو سرکردہ ارکان کو تہاڑ جیل بھیجے جانے کے بعد دارالحکومت میں سیاسی اور سماجی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بدھ کے روز اپنے حامیوں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 16 اکتوبر بروز جمعہ دارالحکومت کے تجارتی مرکز کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ترنگا لے کر جمع ہوں اور اس اقدام کے خلاف پرامن مظاہرہ کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھیوں کو محض قومی پرچم لہرانے اور اپنے بنیادی جمہوری حق کے استعمال پر سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا ہے۔
گرفتار کیے گئے ارکان سوربھ داس اور آشوتوش رنکا کو امن برقرار رکھنے کے مچلکوں کی مبینہ خلاف ورزی اور جنتر منتر کے غیر نوٹیفائیڈ احتجاجی زمرے میں داخل ہونے پر خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا تھا، جہاں سے عدالت نے انہیں پانچ روزہ عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل بھیج دیا۔ منگل کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں دونوں رہنما ہاتھوں میں ترنگا اٹھائے جنتر منتر پر پہنچے تھے اور انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور انتخابی نظام کے خلاف شدید نعرے بازی کی تھی۔ دہلی پولیس کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں تحویل میں لے لیا تھا، جبکہ ان کے ایک تیسرے ساتھی اجنکیا شندے کو چھ ماہ کے لیے امن برقرار رکھنے کے ذاتی مچلکے اور پانچ ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ابھیجیت دیپکے نے الزام عائد کیا کہ سوربھ اور آشوتوش کو صرف ترنگا لہرانے کے جرم میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ ثابت کریں گے کہ قومی پرچم لہرانا اور اپنے حقوق کی بات کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ جو افراد دہلی کے کناٹ پلیس میں جمعہ کی شام پانچ بجے نہیں پہنچ سکتے، وہ اپنے اپنے شہروں اور قصبوں میں شام کے وقت ترنگا مارچ نکالیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کال کے بعد خود انہیں بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنتر منتر پر احتجاج کے لیے قانونی اجازت اور نوٹیفکیشن کے طریقہ کار پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ سی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ جنتر منتر پر شہریوں کے احتجاج کے حق کو بحال کرانے گئے تھے۔ دوسری جانب شہری حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں نے پرامن مظاہرین پر سخت دفعات کے اطلاق پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانا اور قومی علامات کے ساتھ پرامن اجتماع کرنا شہریوں کا آئینی استحقاق ہے، جس پر غیر ضروری قانونی پابندیاں عوامی بے چینی کا باعث بنتی ہیں۔
کناٹ پلیس جیسے مصروف ترین تجارتی مرکز میں جمعہ کے روز بڑے اجتماع کے اعلان کے بعد دہلی پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیاں چوکنا ہو گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بغیر اجازت کسی بھی قسم کے بڑے اجتماع، جلوس یا لا اینڈ آرڈر کو متاثر کرنے والے اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجسٹریٹ کے احکامات کے بعد حساس مقامات پر اضافی فورسز تعینات کی جا رہی ہیں تاکہ امن و امان کی صورت حال برقرار رکھی جا سکے۔




