یہ صرف شام کا معاملہ نہیں ہے

یہ حملہ آور ابھی تک مقبوضہ ممالک کو تاراج کیے ہوئے ہیں۔ رہے کالے ، تو وہ ان کی پروپیگنڈہ مشین کے زیر اثر وہی بولی بول رہے ہیں جو یہ جارح حملہ آور چاہتے ہیں۔شام پر حملہ ہونا اتنا…

یہ حملہ آور ابھی تک مقبوضہ ممالک کو تاراج کیے ہوئے ہیں۔ رہے کالے ، تو وہ ان کی پروپیگنڈہ مشین کے زیر اثر وہی بولی بول رہے ہیں جو یہ جارح حملہ آور چاہتے ہیں۔شام پر حملہ ہونا اتنا…

ان کی پٹھوفوج کے ہاتھوں ہزاروں افراد کا قتل اور گھناؤنے جرائم انہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔اور بڑی ڈھٹائی سے وہ اسے فوجی بغاوت قرار دینے سے گریزاں ہیں۔ اس موقع پر یہودونصار ی کے زیر اثر میڈیا کی…

آج ہمارے اپنے ملک میں رہنے بسنے والے بہت سے صحافی اور سیاستدان جو کہ یو ایس ایڈ پر پل رہے ہیں، وہ ہم جیسے لوگوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ہم دو لاکھ شامیوں کا قتل عام بھول…

اس کی آبادی دو کروڑ ہے جن میں اکثریت عربوں کی ہے۔ بہت تھوڑی تعداد میں اسیریائی، کرد، ترک اور دروز بھی شام میں رہتے ہیں۔ شام کے چودہ صوبوں دمشق،ریف، دمشق،قنیطرہ،درعا ،سویدا،حمص،طرطوس ،اذقیہ،حماہ ،ادلب،حلب،رقہ،دیرالزور،حسکہ شامل ہیں۔شام دنیا کی قدیم…

مصر کی کل آبادی 9کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اسلامی حکومت کی عمر مصر میں بمشکل ایک سال ہوپائی کہ لبرل عوام اور فوج نے مل کر اخوان حکومت کا تختہ الٹ دیا، اور اخوان اس اقدام کے خلاف احتجاج…

میوات کی اسی بدنامی کا دوسرے لوگوں نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور دہلی میں لوٹ مار کر کے الزام میوات کے سر ڈال دیا…یہ سلسلہ جاری رہا اور اہل میوات ظلم کی چکی میں پستے رہے۔ آخر وقت میں…

اس وقت تواس کوکسی ایسے مصلح وقائدکی اشدضرورت تھی جواس کی صفوں کودرست کرے اورانہیں متحدکرکے مشرق کے کھوئے ہوئے وقارکوپھرسے واپس لائے۔منزل دوراورراہ پرخطروتاریک لیکن انہیں نازک گھڑیوں میں مشرق بڑے المناک طریقہ پرشیخ حسن البناکوشہیدکرکے اپناچراغ راہ بجھادیتا…

حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی کی زیر سرپرستی میں مولانا محمد الحسنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی شروعات ۱۳۷۵ ھ مطابق ۱۹۵۵ ء میں کی ۔ مولانا موصوف کی وفات کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء کے موجودہ…

جن میں جمیل اختر نعمانی ( صحافت) اجے دیو گن ( جنگا جمنی تہذیب پر مبنی فلموں کے فروغ کے لئے ) امریش مشرا ( 1857کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی خدمات ) راج دیپ دیسائی وغیرہ جسارت ایوارڈ پانے…

اس فارمولا کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی عوام عنان حکومت کے قیام کے اخراجات،مہنگائی، روزگار کی کمی، بجلی کی پیداوار میں کمی، صنعت و تجارت، کشادگی ترقی و خوشحالی کی خاطر نہایت صبر و تحمل اور…