اور اب آزادی صحافت پر شب خون؛

سیکولرازم کی گرہیں وقت کے ساتھ ساتھ کھلتی چلی جارہی ہیں اورمغربی تہذیب کاکذب و نفاق دنیاپر طشت از بام ہواجارہا ہے۔یہی مغرب جسے اپنے مفادات کے لیے اگرجمہوریت کی ضرورت ہو تو جمہوری طبقات اور سیاسی جماعتوں کواپنے سینے…

سیکولرازم کی گرہیں وقت کے ساتھ ساتھ کھلتی چلی جارہی ہیں اورمغربی تہذیب کاکذب و نفاق دنیاپر طشت از بام ہواجارہا ہے۔یہی مغرب جسے اپنے مفادات کے لیے اگرجمہوریت کی ضرورت ہو تو جمہوری طبقات اور سیاسی جماعتوں کواپنے سینے…

انہی افرادمیں سرِ فہرست ایریل شیرون تھاجو۱۱جنوری کواس دنیاسے اس طرح رخصت ہواکہ دنیابھرکے مشہور اخبارات نے اس کی موت پربڑی عبرتناک سرخیاں جمائی ہیں۔ایک اخبارکی سرخی ’’قصاب کوموت آہی گئی‘‘سے لگتاہے کہ ایڈیٹرکویہ ذاتِ کم ظرف اس دھرتی پر(مقابلتاًزیادہ…

ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ ان افراد کی اطلاع انکم ٹیکس اور دیگر محکموں کو دی جائے گی یا نہیں۔ لیکن یہ ایک بہت موثر قدم ہے اس سے نہ صرف کالا دھن بازار میں آئے گا بلکہ نقلی…

ان میں پہلا نام بہوجن سماج پارٹی کے سینئر رہنما ایم پی ڈاکٹر شفیق الرحمن برقؔ کا ہے۔ وہ ہمارے ہم وطن ہی نہیں ہم محلہ بھی ہیں اور واقفیت بھی ایسی ہے جس کی حدیں دوستی سے مل جانی…

بہر حال ہمیں اپنے دستور ہند پر فخر ہے جس نے مذہب ،ذات ،نسل ،علاقائی تفر یقات کے باوجود سبھی فر قے کو ایک ساتھ باندھ کر رکھنے کی کامیاب کوشش کی ۔حالانکہ کنسٹی چیونٹ اسمبلی میں بحث کے دوران…

سزائے موت کے تعلق سے اس فیصلہ پر بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ایسے مجرم بڑی تعداد میں چھوٹ جائیں گے، جو اپنے جرم کی سنگینی کے باعث سزا کے مستحق ہوچکے تھے۔…

لیکن ان میڈلوں کو حتمی شکل دینے والے سیکڑوں دستکار جو انہیں ڈھالتے ہیں، ان کی تراش و خراش ، انہیں چلانے اور رنگ روغن کرنے کا کام کرتے ہیں، وہ حکومت ہند کی کولکاتہ کی ٹکسال میں پس منظر…

فرق صرف اتناہے کہ پہلے گوروں کی غلامی میں تھااب گوروں کے پیروکاروں گندمی رنگ کے لوگوں کی غلامی میںآگیا،ہمارایہ وطن پہلے بھی غلام تھااوراب بھی غلام ہے۔دوسری اہم تاریخ ۲۶؍جنوری ہے ۔۲۶؍جنوری کوہندوستان کی تاریخ میں اس لیے اہمیت…

عالمی سطح پر پلس پولیو کے ذریعہ بچوں کو صحت مند و تندرست رکھنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ ہر ایک چاہتا ہے کہ انکے ملک میں معذور بچے پیدا نہ ہوں اس کے سدّباب کے لئے حکومتوں کی جانب…

تاہم بعد ازاں جرمن پارلیمان میں جرمن وزیر خارجہ زیادہ پر امید نظر نہیں آئے۔ وہاں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا:ہم شام میں امن کی منزل سے اور خونریزی کے خاتمے کی منزل سے ابھی کوسوں دور ہیں۔تاہم فرانک…