اے ایم یو،جامعہ ملیہ پر شب خون مارنے کا مقصدکیاہے؟

دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ افراد اس معاملے کو ایک سیاسی مسئلہ بھی مان رہے ہیں۔اے ایم یو اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری بختیار یوسف اس پورے معاملے کو مرکزی حکومت کی نیت سے…

دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ افراد اس معاملے کو ایک سیاسی مسئلہ بھی مان رہے ہیں۔اے ایم یو اولڈ بوائز ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری بختیار یوسف اس پورے معاملے کو مرکزی حکومت کی نیت سے…

اِن سرفروشوں میں بہادرشاہ ظفرؔ ، بیگم حضرت محل، جنرل بخت روہیلہ، احمداللہ شاہ ، فیروزشاہ، مہارانی لکشمی بائی، نانا صاحب پیشوا، تاتیا ٹوپے، بابو کنور سنگھ سب کے فرمان ، خطوط اور مُہروں میں اردو ہی استعمال ہوتی تھی۔اردو…

گذشتہ دنوں جن چار لوگوں کو دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے ممنوعہ تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے ، جن لوگوں پر ایمن الظواہری کے دست راست ہونے کا الزام لگایا ہے ان میں…

ان کے لیے نہ جاے ماندن ہے، نہ پاے رفتن، ایک طرف حزب اللہ و بشارِلعین کی افواج ان کے گردگھیراتنگ کیے ہوئے ہیں، تودوسری طرف بارودی سرنگیں اورگھات میں بیٹھے ہوئے شکاری ان کی تاک میں ہیں،اُنھیں کھانے پینے…

اس طرح غزہ کی حکومت جون 2014 تک ’’حماس‘‘کے کنٹرول میں رہی۔ پھر2؍جون کو آپسی اتحاد و اتفاق کے بعد، مشترکہ حکومت بنانے کی بات طے ہوئی، مگر اس کا کوئی فائدہ حماس اور اہالیان غزہ کو حاصل نہیں ہوا۔جہاں…

اس لئے نامساعد حالات کے باوجود بھی گفتگو اور بحالی امن کی کارروائی جاری رہنی چاہئے ۔نواز مودی کی ملاقات کے وقت ہی کئی طرح کے خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا تھا ۔ذیل میں یہ دیکھنے کی کوشش…

ابھی چند دنوں قبل وزیر داخلہ نے مسلمانوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستانی مسلمان داعش جیسی ممنوعہ تنظیموں کو ہند وستان میں پنپنے نہیں دیں گے۔ ان باتوں اور حالات سے امید کی ہلکی سی کرن جاگی…

مہاراشٹر کے حالیہ بلدیاتی انتخابات نے بھی مودی کی اس مقبول عام ہیرو کی شبیہ کو سخت دھکا لگا ہے جو 2014کے پارلیمانی الیکشن میں بن گئی تھی۔ان میں بھاجپا چوتھے مقام پر آئی ہے جب کہ کانگریس اس سے…

اس قسم کے سوال ہندوستانی میڈیا میں اٹھائے جاتے رہے ہیں اور پولس وخفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں میں بھی ایسی باتیں سامنے آتی رہی ہیں مگر دوسری طرف مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہناہے کہ ملک کے مسلمان وطن…

مولانا برکت اللہ نے بھوپال کے ایک نچلے متوسط خاندان میں آنکھ کھولی، روایتی مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اپنے باغیانہ ذہن اور انقلابی فطرت کی وجہ سے انگریزی تعلیم کے حصول کے لئے بھوپال سے جبلپور، پھر بمبئی…