بی جے پی رکن پارلیمنٹ کا ہندو نوجوانوں کو پانچ بچے پیدا کرنے کا مشورہ

بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اور مدھیہ پردیش کے کھرگون بروانی سے رکن پارلیمنٹ گجیندر سنگھ پٹیل نے ہندو نوجوانوں کو جلد شادی کرنے اور پانچ پانچ بچے پیدا کرنے کی تلقین کر کے نیا سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ 2 اکتوبر کی شب منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں پیدا ہونے والے ہر چار بچوں میں سے صرف ایک بچہ ہندو خاندان میں پیدا ہوتا ہے جبکہ باقی تین بچے مبینہ طور پر دوسری برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جس کا واضح اشارہ مسلم طبقے کی طرف مانا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے دونوں برادریوں کی شرح پیدائش میں غیر حقیقی فرق کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ایک طبقے کی شرح 1.9 فیصد جبکہ دوسرے کی 2.9 فیصد ہے۔ بی جے پی لیڈر کا موقف تھا کہ آزادی کے بعد سے ملک کا آبادیاتی توازن بگڑ چکا ہے۔ ان کے مطابق 1947 سے 1967 کے درمیان خاندانوں میں چار سے سات بچے عام ہوتے تھے اور شادیاں بھی بیس سال کی عمر کے آغاز میں ہو جاتی تھیں، لیکن موجودہ دور میں نوجوان تیس سال یا اس سے زیادہ عمر میں شادی کر رہے ہیں اور صرف ایک بچے تک محدود رہتے ہیں، جس کی وجہ سے سناتنی آبادی کا تناسب گھٹ رہا ہے۔

گجیندر سنگھ پٹیل نے نوجوانوں کو جسمانی طاقت بڑھانے، روایتی اکھاڑوں اور جم جانے کے ساتھ ساتھ عقیدت کے متوازی ہتھیار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکلات کے وقت سناتنی ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے، چاہے ان کی سیاسی وابستگی کچھ بھی ہو۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈی جے کلچر، منشیات اور جہیز کے خلاف اپنی مہم کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تفریحی تقاریب میں شامل نوجوانوں کی اکثریت نشے کی لپیٹ میں آ رہی ہے، جس کے سدباب کے لیے خاندانی اقدار کو مضبوط کرنا لازمی ہے۔

سیاسی و سماجی تجزیہ نگاروں کے مطابق آبادی کے غیر متوازن تناسب اور اقلیتوں کی آبادی میں غیر معمولی اضافے کے اس نوعیت کے دعوے حقیقت کے برعکس اور سیاسی فائدے کے تحت پولرائزیشن کو ہوا دینے کی کوشش ہوتے ہیں۔ حکومت ہند کے قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس) اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمام طبقات میں مجموعی شرح پیدائش تیزی سے نیچے آئی ہے اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی شرح پیدائش میں بھی گزشتہ دہائیوں کے دوران مستقل گراوٹ درج کی گئی ہے۔

اقلیتی حقوق کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے عوامی نمائندوں کی جانب سے ہتھیار رکھنے کی تلقین اور مخصوص طبقے کو بنیاد بنا کر خوف و ہراس پر مبنی بیانیہ قائم کرنے کو سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک کو تعلیم، روزگار اور صحت جیسے حقیقی بنیادی مسائل کی طرف توجہ دلانے کے بجائے مذہبی کارڈ کا استعمال آئینی قدروں اور جمہوری فضا کو مجروح کرتا ہے۔

معاملے پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس اشتعال انگیز بیان پر متعلقہ حکام اور الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں تاکہ جمہوری اور کثیر الثقافتی معاشرے میں نفرت انگیز تقسیم کو روکا جا سکے۔

شیئر کریں۔