سڑک تعمیر نہ ہونے پر دیہی عوام کا غصہ، رکن پارلیمنٹ اور ایم ایل اے کے نام پر گڈھوں کی تختی لگا دی

بہار کے ضلع بیگوسرائے میں بنیادی شہری سہولیات کی عدم فراہمی اور سڑکوں کی مسلسل بدحالی پر مقامی آبادی کا صبر جواب دے گیا۔ ویرپور بلاک کے تحت آنے والی پَرا پنچایت کے دیہی باشندوں نے حکومتی بے حسی اور عوامی نمائندوں کی چشم پوشی کے خلاف ایک علامتی اور منفرد انداز میں احتجاج درج کروایا ہے۔ پَرا سے سرونجا کو جوڑنے والی اہم رابطہ سڑک پر موجود جان لیوا گڈھوں کے پاس مقامی رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے ساتھ ساتھ مقامی بی جے پی رکن اسمبلی کندن کمار کی تصاویر والی تختیاں آویزاں کر کے ان گڈھوں کا نام بالترتیب ’گری راج کنڈ‘ اور ’کندن کنڈ‘ رکھ دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور رپورٹس کے مطابق علاقے کے نوجوانوں اور بزرگوں نے ان تختیوں کو ہاتھ میں اٹھا کر سڑک کے مختلف گہرے گڈھوں میں نصب کیا تاکہ ذمہ دار عوامی نمائندوں کو ان کے وعدے یاد دلائے جا سکیں۔ مقامی دیہی باشندوں کا مؤقف ہے کہ سنہ 2020 میں رکن اسمبلی کے انتخاب کے بعد سے اب تک گزشتہ چھ برسوں کے دوران اس اہم راستے کی تعمیر و مرمت کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ سڑک کی حالت اتنی مخدوش ہو چکی ہے کہ دو پہیہ گاڑیوں، ایمبولینس اور عام سواریوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے، جبکہ برسات کے موسم میں گڈھوں میں پانی بھر جانے سے حادثات معمول بن جاتے ہیں۔

دیہی مظاہرین نے واضح کیا کہ کاغذی کارروائیوں میں اس علاقے کو ماڈل پنچایت کا درجہ دیا جاتا ہے، مگر زمینی سطح پر سڑک کی بدترین حالت حکومتی ترقیاتی دعوؤں کی اصل تصویر پیش کرتی ہے۔ بارہا درخواستیں دینے کے باوجود جب محکمہ جاتی افسران اور سیاسی نمائندوں نے کوئی توجہ نہیں دی تو عوامی سطح پر انتظامیہ کو بیدار کرنے کے لیے یہ علامتی طریقہ اختیار کیا گیا۔ مقامی آبادی نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر سڑک کی تعمیر کا باضابطہ آغاز نہ ہوا تو بڑے پیمانے پر تحریک چلائی جائے گی۔ متعلقہ عوامی نمائندوں یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جمہوری نظام میں بنیادی عوامی حقوق، راستوں کی سلامتی اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی ہر شہری کا جائز حق ہے۔ ایسے میں دیہی آبادیوں کا اپنی شکایتوں کو اس طرح کے طنزیہ اور پرامن طریقوں سے سامنے لانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ نچلی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور عوامی نمائندوں کا احتساب کس قدر ناگزیر ہو چکا ہے۔

شیئر کریں۔