بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل میں پیش آئے مورل پولیسنگ کے معاملہ کے بعد نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ پولیس نے دونوں فریقوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر الگ الگ مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کو دی گئی ایک شکایت میں شاہد خان نے الزام لگایا ہے کہ وہ ایک ہندو لڑکی کو اس کے رشتہ داروں کے گھر چھوڑنے جا رہا تھا کہ راستے میں چند افراد نے گاڑی روک کر اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے بعض افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ شاہد خان کی جانب سے صبح شکایت درج کرنے کے بعد شام کو لڑکی کی طرف سے بھی شکایت درج کروائی گئی ہے، جس میں نوجوان پر ہراسانی اور زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس شکایت پر بھی مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ابھی اس بات کا پتہ نہیں چل پایا کہ آیا ہندو لڑکی نے خود سے شکایت درج کرائی ہے یا کسی کے دباؤ میں آکر؟
ہندوکارکنان کے خلاف معاملہ درج کرنے سے ناراض کئی افراد پولیس تھانہ کے باہر جمع ہوگئے اور سخت احتجاج کیا۔ احتجاج میں شریک ہندو تنظیموں کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ نوجوان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اسے روکنے والے کارکنان پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ ان کی جانب سے دی گئی شکایت پر فوری کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے کارکنان کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے، معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو آئندہ مزید احتجاجی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے نوجوان کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بھٹکل پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا۔
ادھر سوشل میڈیا پر احتجاج کے دوران کی ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں بعض رہنماؤں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ گفتگو دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم پولیس کی جانب سے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔




