بھٹکل(فکروخبرنیوز) شہر میں کل رات سے پٹرول پمپوں پر غیر معمولی بھیڑ دیکھنے میں آرہی ہے۔ مختلف پٹرول پمپوں کے باہر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں جہاں لوگ اپنی باری کے انتظار میں گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔
شہری نہ صرف اپنی گاڑیوں کی ٹنکیاں فل کروا رہے ہیں بلکہ کین اور دیگر چیزوں میں بھی پٹرول ذخیرہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ پمپوں کے اطراف بے چینی اور جلد بازی کا ماحول پایا جارہا ہے۔
یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد پٹرول کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے اور اسٹاک ختم ہونے پر بھٹکل میں ایندھن دستیاب نہیں ہوگا۔ ایک دوسری افواہ یہ بھی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہونے والا ہے۔
ان خبروں کے وائرل ہوتے ہی شہریوں نے احتیاطاً پٹرول بھروانا شروع کردیا۔ لوگ نہ صرف خود قطاروں میں کھڑے ہیں بلکہ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی جلد از جلد پٹرول بھروا لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ شہر میں عام گفتگو کا مرکز بھی یہی موضوع بنا ہوا ہے اور تقریباً ہر دو میں سے ایک شخص اسی مسئلے پر تبادلۂ خیال کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
پٹرول پموں کے مالکان کی جانب سے ایندھن کی سپلائی متأثرہونے کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کی کوئی بات معلوم نہیں ہوسکی اور حکام کی جانب سے تاحال کسی باضابطہ قلت یا قیمتوں میں فوری اضافے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
