بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل کے گلمی کراس کے قریب ہفتہ کی رات پیش آنے والے المناک سڑک حادثے کے بعد قائم مقام ڈی وائی ایس پی گریش نے جائے حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے قومی شاہراہ کی صورت حال اور ٹریفک انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران سے حادثے کے مقام پر سڑک کی حالت اور ٹریفک کی آمد و رفت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مقامی لوگوں کے مطالبے پر متعلقہ حکام کو بھی موقع پر طلب کیا گیا اور انہیں ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔
اس موقع پر مقامی باشندوں نے ڈی وائی ایس پی کی توجہ قومی شاہراہ پر روشنی کے ناکافی انتظامات اور گاڑیوں کی رہنمائی کے لیے مناسب سائن بورڈز کی عدم موجودگی کی طرف مبذول کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے اوقات میں یہاں سے گزرنے والے موٹر سائیکل سواروں اور دیگر گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق گلمی اور ریلوے اسٹیشن کو ملانے والی سڑک کے اس اہم جنکشن پر ٹریفک سگنل اور سمت بتانے والے بورڈز کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں گاڑیاں گزرتی ہیں، لیکن مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے سڑک عبور کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
لوگوں نے قومی شاہراہ کی تعمیر اور اس پر جاری کاموں کے باوجود اس نوعیت کے حادثات پیش آنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ماضی میں پیش آنے والے اسی طرح کے ایک حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔
مقامی باشندوں نے مطالبہ کیا کہ مزید کسی قیمتی جان کے ضائع ہونے سے پہلے گلی کراس اور ریلوے اسٹیشن روڈ پر مستقل حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے خاص طور پر انڈر پاس، ٹریفک سگنل، اسٹریٹ لائٹس، اسپیڈ بریکر اور مناسب رہنما بورڈز نصب کرنے پر زور دیا تاکہ یہاں سے گزرنے والی گاڑیوں اور پیدل چلنے والے افراد کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ کی تعمیر کے دوران عوامی تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ حادثہ پیش آنے کے بعد اقدامات کرنے کے بجائے پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ہفتہ کی رات اسی علاقے میں پیش آنے والے سڑک حادثے میں ایک موٹر سائیکل سوار کی جان چلی گئی تھی، جس کے بعد مقامی لوگوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قومی شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے ٹریفک بھی روک دی تھی۔
اس حادثے کے بعد پولیس افسر کے دورے اور مقامی افراد کے مطالبات سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ پر حفاظتی سہولتوں کی فراہمی کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ عوام نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں محض یقین دہانیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے المناک حادثات سے بچا جاسکے۔




