بھٹکل: کابینہ سے منکال وئیدیا کو باہر رکھے جانے پر ماہی گیربرادری میں شدید ناراضگی، پریس کانفرنس کر کے اٹھائے سوالات

بھٹکل (فکروخبر نیوز) کرناٹک کابینہ کی حالیہ توسیع میں بھٹکل کے رکنِ اسمبلی اور سابق وزیر منکال بیدیا کو وزارتی فہرست میں شامل نہ کیے جانے پر ساحلی کرناٹک، بالخصوص ضلع اترا کنڑ کی ماہی گیر برادری میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بھٹکل فشرمین ایسوسی ایشن اور کمیونٹی کے نمائندوں نے ایک پریس کانفرنس منعقد کر کے کانگریس حکومت اور پارٹی ہائی کمان کے فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ منکال بیدیا نے اپنے سابقہ دورِ وزارت میں محکمۂ ماہی گیری و بندرگاہوں کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی کوششوں سے حادثاتی طور پر جاں بحق ہونے والے ماہی گیروں کے اہلِ خانہ کے لیے امدادی رقم 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کی گئی، جبکہ ساحلی علاقوں کی ترقی اور ماہی گیر برادری کی بہبود کے لیے متعدد منصوبے بھی نافذ کیے گئے۔

رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کی ابتدائی منظوری والی فہرست میں منکال بیدیا کا نام شامل تھا، تاہم حلف برداری سے قبل آخری لمحات میں ان کا نام فہرست سے نکال دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف منکال وئیدیا بلکہ پوری ماہی گیر برادری کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اترا کنڑ، دکشن کنڑ اور اُڈپی کے ساحلی اضلاع کی معیشت کا بڑا انحصار ماہی گیری کے شعبے پر ہے۔ سمندری (Marine) اور اندرونِ ملک (Inland) ماہی گیری کے مسائل اور ضروریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے اس شعبے کی عملی سمجھ رکھنے والے مقامی رہنما کو ہی اس محکمے کی ذمہ داری دی جانی چاہیے۔

پریس کانفرنس میں ضلع اترا کنڑ کے لیے دوسرے ضلع سے انچارج وزیر مقرر کیے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ مقررین نے وزیراعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے مطالبہ کیا کہ وہ عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کریں اور منکال وئیدیا کو دوبارہ ریاستی کابینہ میں شامل کر کے ضلع اترا کنڑ اور ساحلی عوام کو ان کا حق دیں۔

شیئر کریں۔