بڑھتی عدمِ رواداری:بحث ابھی جاری ہے!

تویہ ہندوستان کوتاریک دورمیں پہنچادے گا‘‘ان کے بعداب بالی ووڈکی ایک اور نابغہ شخصیت عامر خان نے پیرکے دن صحافیوں کے اعزازمیں منعقدہ رام ناتھ گوئنکاتقریبِ اعزازمیں(جس میں مرکزی وزیرِخزانہ ارون جیٹلی بھی موجود تھے)کچھ اسی قسم کی باتیں کہی ہیں،انھوں نے پچاس سے زیادہ دانشوران،قلم کاراورآرٹسٹ کے ذریعے ایوارڈواپسی کی حمایت کرتے ہوئے اپنی بیوی کرن راؤکے حوالے سے کہاکہ ’’میں گھرمیں جب کرن سے بات چیت کرتاہوں،تووہ ملک کے موجودہ بے اطمینانی والے ماحول کو دیکھتے ہوئے اوراپنے بچوں کے تئیں فکرمندی کی وجہ سے کہتی ہیں کہ ہمیں ہندوستان سے باہر کسی اور ملک منتقل ہوجانا چاہیے،انھیں خدشہ ہے کہ پتہ نہیں آیندہ ملک کی فضا کیسی ہو؟ اِسی ڈرسے وہ روزانہ صبح کااخباربھی کھولنے سے ڈرتی ہیں کہ پتہ نہیں اس میں کون سے نئے حادثے کی اطلاع دی گئی ہو‘‘۔
جس طرح شاہ رخ کے بیان پرہنگامہ مچاتھا،کچھ اسی قسم کی لے دے عامرخان کے مذکورہ بیان کے بعدبھی دیکھنے،سننے میں آرہی ہے،بی جے پی لیڈروں کے علاوہ فلم انڈسٹری سے جڑے کئی لوگوں نے شاہ رخ خان پرزبانی حملے کیے تھے اور اب عامر خان پر بھی زبانی تیرآزمائے جارہے ہیں،یوگی آدتیہ ناتھ نے ہندووں کوشاہ رخ خان کی فلم دیکھنے سے منع کیاتھا،جبکہ بی جے پی کے جنرل سکریٹری وجے ورگی نے کہا تھا کہ شاہ رخ خان کا جسم ہندوستان میں ہے،جبکہ ان کی روح پاکستانی ہے۔اسی زمانے میں بالی ووڈکے مشہوراداکارانوپم کھیرنے دہلی میں ایک علامتی مارچ کرکے یہ باورکرانے کی کوشش کی تھی کہ ملک میں عدمِ رواداری جیسا کوئی ماحول نہیں ہے اور جولوگ اس عنوان پر اپنے اعزازات واپس کر رہے ہیں یا جو ان کی تاییدکررہے ہیں،وہ محض پروپیگنڈہ اورحکومت کے خلاف ماحول سازی کا حصہ ہے۔اس باربھی انوپم کھیربی جے پی حکومت کے دفاع میں اترگئے ہیں،انھوں نے ٹوئٹ کرکے عامرخان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھاہے کہ’’کرن راؤسے آپ پوچھیں کہ وہ کونسے ملک منتقل ہونا چاہتی ہیں،آپ انھیں بتاسکتے ہیں کہ اِسی ملک نے آپ کو عامر خان بنایاہے؟یہ ہندوستان ہی ہے،جس نے آپ کو عزت دی ہے اور اب سات آٹھ مہینوں میں آپ کو خطرہ محسوس ہونے لگا؟‘‘فلم ڈائریکٹررام گوپال ورمانے بالی ووڈکے تین میگااسٹارخانوں کاحوالہ دیتے ہوئے ٹوئٹ کیاکہ’’ یہ ہندوستانی رواداری کی بہترین مثال ہے اور چند واقعات کوبنیاد بناکرایسانہیں کہا جا سکتا کہ ملک میں عدمِ رواداری کا ماحول بڑھ رہاہے‘‘،بھوجپوری فلم اداکاراور بی جے پی ممبرپارلیمنٹ منوج تیواری نے عامرخان کے بیان کوتکلیف دہ قراردیتے ہوئے کہاکہ انھیں عامرخان کے بیان سے’’شاک‘‘لگاہے۔
جبکہ دوسری جانب حسبِ توقع کانگریس اور عام آدمی پارٹی عامر خان کی حمایت میں اترگئی ہیں،دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنے ٹوئٹ میں ملک میں بڑھتی فرقہ وارانہ عدمِ آہنگی پر حکومت کی خاموشی کو نشانہ بنایا ہے اوردانشوروں کی ایوارڈواپسی کے ساتھ فلمی دنیاکے مذکورہ اسٹاروں کے اظہارِ تشویش کو درست قراردیاہے۔خیر!اس معاملے پر ابھی اور بھی زبانی و تحریری مہابھارت ہوگی،مگراس سب کے بیچ جو چیز قابلِ غوروفکرہے،وہ یہ ہے کہ حکومت آخراس معاملے پر سنجیدہ کیوں نہیں ہوپارہی ہے؟ہمارے وزیر اعظم کو توایسا لگتاہے ملک کے اندرونی و داخلی معاملات سے کوئی دل چسپی ہی نہیں رہ گئی،وہ ہر ہفتے کسی نئے ملک کے دورے پر نکل جاتے ہیں اورجہاں جاتے ہیں،ایک ہی قسم کے گھسے پٹے بیانات کہ ہندوستان ایک عظیم ملک ہے،یہاں سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں،دہشت گردی سے لڑنے کے لیے نئی پلاننگ کی جانی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ہندوستان میں کچھ دن ٹک کر وہ تبھی رہتے ہیں،جب کسی ریاست میں الیکشن ہو،پھر وہ اس الیکشن کواپنی آن بان اور اَنا کا مسئلہ بنالیتے ہیں اور اس طرح تشہیری مہم چلاتے ہیں،جیسے ان کی یا دوسری پارٹیوں کے دیگر چھوٹے چھوٹے لیڈران۔گزشتہ ڈیڑھ سال کی بی جے پی حکومت یا ہمارے وزیر اعظم کی کارکردگی کا اگر پوری غیر جانب داری کے ساتھ جائزہ لیں،تووہ محض چرب زبانیوں اوربرانڈنگ تک محدود ہے،زمینی سطح پرملک کی مجموعی حالت بہتری کی بجاے ابتری کی جانب ہی رواں دواں ہے،عوام مہنگائی کی مار سے مسلسل بے حال ہے اور دوسری جانب داخلی سلامتی کی فضابھی لگاتار مکدرہوتی جارہی ہے۔یہ کوئی افواہ نہیں ہے،جیسا کہ انوپم کھیر جیسے نیم سیاسی لوگ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں؛کیوں کہ اگر یہ افواہ ہوتی توگزشتہ دوماہ سے لگاتاریکے بعد دیگرے ملک کے نمایاں(جن میں اکثریت غیر مسلموں کی ہے) دانشوران اپنی تشویش کا اظہار نہیں کرتے اور وہ اپنے اعلیٰ شہری اعزازات نہیں لوٹاتے،اگر بی جے پی کے لیڈران یا حکومت کے بہی خواہ اس مہم کومحض ایک پروپیگنڈہ بتارہے ہیں،تویہ درپردہ جرم پر پردہ ڈالنے یاملک کے ناموراربابِ دانش کی عقل و فہم پر سوالیہ نشان قائم کرنے جیسا ہے۔
کیوں کہ اگرعام آدمی کسی مسئلے پر اظہارِ خیال کرتاہے،تواسے اہمیت نہیں دی جاتی اوردیناکوئی ضروری بھی نہیں ؛کیوں کہ عموماً یہ سمجھاجاتاہے کہ عام آدمی کا شعوراُس حد تک حساس اور معاملہ فہم نہیں ہوتاکہ ہر مسئلے اور معاملے پر اس کی رائے پر توجہ دی جائے یا اس کے مطابق عملی اقدام کیاجائے؛لیکن جب کسی معاشرے،ملک کے نابغہ افراد،جن کی دانش و بینش اور فکروشعورکوایک بہت بڑے انسانی طبقے کی تاییدوتحسین حاصل ہو،وہ اگر کسی مسئلے پر اظہارِ خیال کریںیاکسی معاملے پر اپنی تشویش اور اندیشے کوظاہر کریں،تواس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ واقعتاً سنگین ہے اور قابلِ توجہ ہے،اب گزشتہ دومہینوں سے ہندوستان کے ادبا و دانشوران جوملک میں بڑھتی بے چینی و بے اطمینانی پر اپنی ناراضگی جتارہے ہیں اور احتجاجاً اپنے اعزازات لوٹارہے ہیں،تواس کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہمارے ملک میں صحیح معنوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول پہلے کے مقابلے میں بگڑاہے اور پھراس کی مثالیں بھی تولگاتار ہمارے سامنے آرہی ہیں،بقرعید کے موقع پر یوپی کے دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی محض افواہ پر ایک بھیڑایک بے قصور انسان کو مارمارکرموت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے،ہریانہ میں دلت بچے کو جلادیاجاتاہے،اظہارِ خیال پر قدغن لگانے کی کوشش کی جاتی اور ادیبوں پر جان لیوا حملے کیے جاتے ہیں؛یہ سب کیاہیں؟فرقہ وارانہ عدمِ رواداری کی مثالیں ہی توہیں۔جلدہی پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس بھی ہونے والا ہے،بہار الیکشن میں شرمناک شکست کے بعد جہاں بی جے پی کے حوصلے پست ہیں،وہیں اپوزیشن پوری طرح حوصلہ مندہے اور ابھی سے خبریں آرہی ہیں کہ پارلیمنٹ میں ملک میں بڑھتی بے اطمینانی کا مسئلہ زور و شورسے اٹھنے والاہے،ظاہر ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اپنے ذاتی مفادات کے لیے بھی ایوان میں ہنگامہ آرائیاں کرتی رہی ہیں اورعوام کے خون پسینے سے حاصل شدہ کروڑوں روپے ان کے منتخب نمایندوں کے دھول دھپوں کی نذرہوتے رہے ہیں،کانگریس کے دورِ اقتدارمیں بی جے پی بھی بہت اودھم مچاتی تھی اور کئی بار پارلیمنٹ کا ساراکاسارااجلاس ہنگامہ آرائیوں کی نذر ہوجاتاتھا؛لیکن اگریہ پارٹیاں آنے والے سرمائی اجلاس میں عدمِ رواداری کے مسئلے پرحکومت کو گھیرتی ہیں،توجہاں ان کے پاس اس کی معقول دلیل اور ثبوت و شواہد ہوں گے،وہیں حکومت کے پاس واقعی تسلی بخش کوئی جواب نہیں ہوگااورپھراُس اجلاس کا منظردیکھنے لائق ہوگا!!
حکومت،وزیرِ اعظم یا حکمراں پارٹی کے لیڈران اور ٹی وی چینلوں پرمباحثوں میں لمبی لمبی ہانکنے والے بی جے پی کے ترجمانوں کواپنی ذمے داریوں کااحساس ہونا چاہیے،مودی دنیابھرمیں گھوم گھوم کربزعمِ خویش ہندوستان کا’نام روشن کرتے پھررہے ہیں‘جبکہ یہاں خودان کے لوگ ان کی مٹی پلید کر رہے ہیں،بہارکے اسمبلی الیکشن میں جو شکست بی جے پی کو جھیلنی پڑی ہے،وہ محض ایک شکست نہیں؛بلکہ اس میں ایک پیغام مضمرہے،جویہ کہہ رہاہے کہ اگرحکومت نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا،توآنے والے دن اور ان دنوں میں کئی ریاستوں میں منعقدہونے والے انتخابات مزیدحوصلہ شکن نتائج سے دوچارکریں گے۔ 

«
»

اس گھر کو آگ لگ گئی……………….

ٹیپوسلطان بمقابلہ سنگھ پریوار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے