این سی پی لیڈر بابا صدیقی کے قتل کے معاملے میں ان کی اہلیہ شہزین صدیقی نے الزام لگایا ہے کہ ممبئی پولیس صرف نمائشی کارروائی کر رہی ہے۔ پولیس اپنی منمانیوں کو چھپانے کے لیے انتظامی رکاوٹوں کا سہارا لے رہی ہے۔ شہزین صدیقی کی جانب سے پیش ہوئے وکیل تریون کمار کرنانی نے کہا کہ ممبئی پولیس صرف دکھاوے کی کارروائی کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت پہلے بھی کئی بار مرکز کو خط لکھ چکی ہے، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ قصداً کی جا رہی انتظامی تاخیر کی وجہ سے قتل کے معاملے کی سماعت متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے، جب ممبئی پولیس کو پتہ ہے کہ جیل میں پوچھ تاچھ کرنے اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے حراست یقینی بنانے کے لیے عدالتی احکامات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ممبئی پولیس اپنی منمانیوں کو چھپانے کے لیے انتظامی رکاوٹوں کا سہارا لے رہی ہے۔ واضح رہے کہ بابا صدیقی کو 12 اکتوبر 2024 کو ممبئی کے باندرہ ایسٹ علاقے میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی، اجیت پوار گروپ) کے لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر تھے۔
بابا صدیقی کو ان کے بیٹے ذیشان صدیقی کے دفتر کے باہر 3 حملہ آوروں نے گولی ماری تھی۔ قتل کے معاملے میں گینگسٹر لارنس بشنوئی کے تعلقات سامنے آئے تھے۔ ممبئی پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں لارنس بشنوئی کے بھائی انمول بشنوئی کو مطلوب ملزم کے طور پر نامزد کیا تھا۔ یہ الزامات ایسے وقت میں لگائے گئے ہیں، جب بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف کی گاڑی پر حملے کے بعد ممبئی پولیس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ 18 ستمبر کی شام ممبئی کے جوہو علاقے میں ٹائیگر شراف پر حملہ کیا گیا تھا، اس حملے میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ حالانکہ فائرنگ میں ٹائیگر شراف کے ڈرائیور اور ایک دیگر شخص زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے میں بھی لارنس بشنوئی کا تعلق سامنے آیا تھا۔




